• 425
    Shares

آمدن، تعلیم، صحت، جس اعتبار سے بھی دیکھیں، دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی ہر فہرست میں افغانستان سب سے اوپر کے دو تین ملکوں میں شامل ہوتا ہے، لیکن 2010 میں نیو یارک ٹائمز نے پینٹاگون کے ذرائع سے خبر دی کہ افغانستان کم از کم دس کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر سے مالامال ہے۔امریکی محکمۂ دفاع اور ارضیاتی سروے کے تعاون سے کیے جانے والے اس تجزیے سے پتہ چلا کہ ان ذخائر میں ایک ایسی دھات بھی شامل ہے جو اگر آج ختم ہو جائے تو کل تک تمام دنیا کا کاروبار ٹھپ ہو جائے۔ یہ دھات لیتھیم ہے جو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ، کیمروں، ڈرونز اور دوسری ڈیوائسز کی بیٹریز کے علاوہ الیکٹرک کارز کی ری چارج ایبل بیٹریز کا بھی لازمی جزو ہے۔

 

بات 10 کھرب پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ 2017 میں ہونے والے ایک اور سروے کے مطابق افغانستان کے معدنی وسائل کی مالیت 30 کھرب ڈالرز سے زائد ہے، لیکن یہ سروے بھی حتمی نہیں کیوں کہ ملک کے حالات کی وجہ سے ابھی تک وہاں کوئی جامع سروے نہیں ہو سکا، جس سے اصل تصویر سامنے آ سکے۔

جوں جوں موبائل ڈیوائسز اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، ویسے ہی لیتھیم کی طلب بھی روزبروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2040 میں اس دھات کی ڈیمانڈ میں 40 گنا کا اضافہ ہو جائے گا۔ جیسے تیل سے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ویسے ہی معدنیات سے مالامال ملک ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

افغانستان میں کتنا لیتھیم موجود ہے؟

پینٹاگون کی مذکورہ خفیہ رپورٹ میں افغانستان ’لیتھیم کا سعودی عرب‘ قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے وقت کے امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے ایک انٹرویو میں اس بارے میں کہا تھا، ’یہاں حیران کن پوٹینشل موجود ہے۔‘ فرق صرف اتنا ہے کہ سعودی عرب یا مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ملکوں میں تیل پایا جاتا ہے، جسے آج کی ماحولیاتی تشویش سے دوچار دنیا میں پسند نہیں کیا جاتا، جب کہ لیتھیم صاف ستھری اور قابلِ تجدید (renewable) توانائی کا اہم حصہ ہے۔

لیتھیم افغانستان کے غزنی، ہرات اور نمروز صوبوں میں موجود ہے۔

صرف لیتھیم ہی نہیں، افغانستان میں تانبہ، سونا، لوہا اور کوبالٹ بھی بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ 2010 کی امریکی رپورٹ کے مطابق وہاں 421 ارب ڈالر مالیت کا لوہا، 274 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ اور سینکڑوں ارب ڈالر کی دوسری نایاب دھاتیں موجود ہیں۔

اب یہ سارا ذخیرہ طالبان کے قبضے میں آ گیا ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک ’سٹریٹیجک رسک‘ کے ماحولیاتی سکیورٹی پروگرام کے سربراہ راڈ سکونوور نے ’کوارٹز‘ میگزین کو بتایا کہ ’طالبان اب دنیا کی اہم ترین سٹریٹیجک معدنیات کے ذخیروں میں سے ایک کے مالک بن گئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس سے استفادہ کریں گے یا کر سکتے ہیں؟‘

ایسا بھی نہیں کہ طالبان یا کوئی اور حکومت بقول سکونوور ایک بٹن دبا کر اس ساری دولت کو استعمال کرنا شروع کر دیں۔ کسی بھی علاقے سے معدنیات نکالنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی، مہنگی مشینری اور انتہائی تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سہولیات دنیا کے بہت کم ملکوں کے پاس موجود ہیں۔

اس کے علاوہ معدنیات اکثر دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں موجود ہوتی ہیں، جہاں تک رسائی کے لیے انفراسٹرکچر درکار ہے اور افغانستان مواصلات اور سڑکوں کے معاملے میں بھی دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔

تیسری بات یہ کہ پسماندہ ملکوں میں کرپشن وسائل کے استعمال کی راہ میں بری طرح سے آڑے آتی ہے۔ ہم بلوچستان میں دیکھ چکے ہیں کہ وہاں بڑے پیمانے پر موجود معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانا تو ایک طرف رہا، اداروں کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے باعث الٹا پاکستان بین الاقوامی کان کن کمپنی ٹیتھیان کو جرمانہ دینے کا پابند ہو گیا ہے۔

افغانستان میں پہلے ہی غیر قانونی کان کنی زوروں پر ہے۔ ’دی ڈپلومیٹ‘ نے سپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2001 کے بعد سے افغان حکومت کو مقامی سرداروں اور وار لارڈز کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔

چین کا کردار

چین دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے طالبان کے ساتھ ’دوستانہ تعلقات‘ قائم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس فیصلے کی سفارتی اور سٹریٹیجک وجوہات اپنی جگہ، لیکن ماہرین کے مطابق ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین کی تیزی سے پھلتی پھولتی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو مذکورہ معدنیات کی شدت سے ضرورت ہے۔

28 جولائی کو چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے طالبان کے وفد سے بیجنگ میں ملاقات کی اور کہا کہ ’طالبان افغانستان کے امن، مصالحت اور تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘

اس موقعے پر افغان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے امید ظاہر کی کہ چین افغانستان کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2001 میں جب امریکہ نے حملہ کرکے طالبان کی حکومت ختم کی، اس وقت چین افغانستان کے صوبے لوگر میں ’مس عینک‘ نامی تانبے کی ایک کان میں کان کنی کے منصوبے پر کام کر رہا تھا (یاد رہے کہ پشتو اور فارسی تانبے کو مس کہتے ہیں اور عینک عربی لفظ ’عین‘ یعنی چشمے کی تخفیفی شکل ہے، جس کا مطلب ہے ماخذ)۔ ایک اندازے کے مطابق اس مقام پر 50 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ موجود ہے۔

آسٹریا کے انسٹی ٹیوٹ فار یورپین اینڈ سکیورٹی پالیسی کے سینیئر فیلو مائیکل ٹینکم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ’طالبان کا افغانستان پر قبضہ ایک ایسے وقت ہوا ہے، جب مستقبل قریب میں دنیا میں معدنیات کی کمی واقع ہونے والی ہے اور چین کو ان کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چین پہلے ہی سے اس حالت میں ہے کہ وہ ان معدنیات کو نکال سکے۔‘

سنکیانگ کا معاملہ

چین اور افغانستان کی سرحدیں واخان کی پٹی کے ذریعے آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ یہ سخت دشوار گزار علاقہ ہے جہاں سے ٹرانسپورٹ کے ذریعے رابطہ ممکن نہیں ہے، لیکن بعض اطلاعات کے مطابق ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے رکن اسے استعمال کرتے ہوئے چین سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔

چین اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ یہ تنظیم اویغوروں کی اکثریت والے سنکیانگ صوبے کی علیحدگی کی مہم چلا رہی ہے اور چین میں ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر رفعت حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین کی طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین چاہتا ہے کہ اس تنظیم کو افغانستان سے کسی قسم کی کمک نہ مل سکے، اس لیے وہ افغانستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس موقعے پر جب امریکہ نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں، جب کہ روس بھی طالبان کو دہشت گرد سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت بھی الگ تھلگ ہو گیا ہے، اس لیے چین واحد طاقت بن کر سامنے آیا ہے جو افغانستان کی تعمیرِ نو میں حصہ ڈال سکتا ہے۔

لیکن کیا طالبان چین کی بات مان لیں گے اور اویغوروں کی حمایت میں آواز نہیں اٹھائیں گے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر رفعت نے کہا کہ ’طالبان اب 2001 والے طالبان نہیں رہے، انہوں نے سبق سیکھ لیا ہے کہ ڈپلومیسی کیا ہوتی ہے اور اپنے مفادات کے مطابق کس طرح سے فیصلے کرنے چاہییں۔‘

پاکستان کو فائدہ

اگر چین کو واقعی افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا موقع ملا تو اس کا فوری فائدہ پاکستان کو ہو سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی چین تک رسائی پاکستان کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان میں پہلے ہی چین نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر میں سی پیک کے تحت سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ خاص طور پر گوادر کی بندرگاہ اس معاملے میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔

ٹینکم نے اس بارے میں کہا، ’پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ وہ کمرشل روٹ استعمال کرتے ہوئے یہ ساری معدنیات چین کو فراہم کر سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر رفعت حسین نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں امن سے ہر طرح کا فائدہ ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس سے پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا توانائی سے مالامال علاقہ بھی کھل جائے گا، اور تاپی جیسے کئی پروجیکٹ جو کھٹائی میں پڑے ہوئے تھے، بحال ہو سکتے ہیں۔

تمام تجزیہ کار اس پر متفق ہیں کہ سرمایہ کاری بدامنی کے ماحول میں نہیں ہو سکتی۔ اگر واقعی طالبان نے سبق سیکھا ہے تو انہیں معدنیات کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے جلد از جلد ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی بنیاد رکھنا ہو گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔