کابل : گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے سے چند روز قبل، افغان صدر اشرف غنی کا متحدہ عرب امارات میں ’استقبال‘ کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ اپنے ملک کے خزانے سے 169 ملین ڈالر اپنے ساتھ لے گئے۔برطانوی اخبار دا گارڈین میں امریکی اخبار دا واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق خالد پائندہ جو کبھی اشرف غنی کی حکومت میں وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز رہے تھے، واشنگٹن ڈی سی میں اوبر چلا رہے ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’اگر میں اگلے دو دنوں میں 50 ٹرپس مکمل کرتا ہوں تو مجھے 95 ڈالرز کا بونس ملے گا۔‘40 سالہ خالد پائندہ نے امریکی تعاون سے 6بلین ڈالر کے بجٹ کی نگرانی کی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ہفتے کے شروع میں ایک رات میں انہوں نے چھ گھنٹے کے کام کے لیے 150 ڈالر سے کچھ زیادہ کمائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے قابل ہونے کے موقع کے لیے شکر گزار ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی میرے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں یہاں کا نہیں ہوں اور میں وہاں کا نہیں ہوں۔ یہ بہت خالی احساس ہے۔‘