• 425
    Shares

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تین دن سے جاری شدید لڑائی میں کم از کم 27 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔یہ 27 اموات افغانستان کے تین صوبوں قندھار، خوست اور پکتیا میں ریکارڈ کی گئیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق ان علاقوں میں گزشتہ تین دن کے دوران تقریباً 136 بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اب تک مجموعی طور پر افغانستان کے چھ صوبائی دارالحکومت طالبان کے قبضے میں جا چکے ہیں جن میں ایبک، قندوز، سرِ پُل، تالقان، شبرغن اور زرنج شامل ہیں جبکہ کئی مقامات پر حکومتی فورسز اور طالبان میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ ’بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافے‘ سے ادارے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

سوموار کو ایک بیان میں یونیسیف نے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف ہونے والے مظالم ’دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔‘یونیسیف کی افغاستان سے متعلق نمائندہ سمینتھا مورٹ نے کہا ہے کہ ’افغانستان ایک طویل عرصے سے بچوں کے لیے زمین پر بدترین جگہ ہے لیکن گذشتہ 72 گھنٹوں میں صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔‘

بچے سڑک کنارے نصب بموں اور فریقینں کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ ایک ماں نے یونیسیف کو بتایا کہ وہ گھر پر سو رہے تھے جب بم کے تکڑے ان کے گھر پر لگے اور آگ لگنے سے ان کا 10 سالہ بیٹا ’بری طرح جھلس‘ گیا ہے۔ ادارے کے مطابق اپنے گھروں سے جان بچا کر بھاگنے کے بعد کئی بچے کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔یونیسیف نے لڑائی میں شامل تمام فریقین سے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

لڑائی کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان نے افغانستان کے صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سمنگان کے ڈپٹی گورنر صفت اللہ سمنگانی نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ صوبے کا دارالحکومت ایبک طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

اب تک مجموعی طور پر افغانستان کے چھ صوبائی دارالحکومت طالبان کے قبضے میں جا چکے ہیں جن میں ایبک کے علاوہ قندوز، سرِ پُل، تالقان، شبرغن اور زرنج شامل ہیں۔

اس سے قبل طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جنگجوؤں نے پیر کی صبح شمالی شہر مزارِ شریف پر چاروں جانب سے حملہ کیا اور کوٹا برگ کے علاقے سے شہر میں داخل ہو گئے ہیں تاہم بلخ صوبے کے دہدادی ضلع کے سربراہ سید مصطفی سادات نے افغان اسلامک پریس کو بتایا کہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور صوبائی دارالحکومت کے مضافات تک محدود ہے۔

اطلاعات کے مطابق مزار شریف کے علاوہ پُلِ خمری اور بلخ صوبے کے شہر کوٹ برگ پر بھی طالبان نے حملہ کیا جبکہ شمالی صوبے سمنگن کے ضلع سلطان پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

بی بی سی افغان سروس کے مطابق جنوبی شہر لشکرگاہ اور ہلمند میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں لشکر گاہ میں اب تک 20 شہریوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔مزید اطلاعات کے مطابق لشکر گاہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی گئی ہیں۔

گذشتہ شب پکتیا ریڈیو سٹیشن کے سربراہ اور سرکاری پراسیکیوٹر طوفان عمری کو کابل جاتے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے قتل کر دیا۔ اس سے دو روز قبل جمعہ کو افغان حکومت کے میڈیا ڈائریکٹر دوا خان میناپل کو بھی طالبان نے حملہ کر کے قتل کر دیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔