• 425
    Shares

افغانستان میں طالبان کے برق رفتاری سے قبضے نے دنیا بھر کے سکیورٹی اور سفارت کاری کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سقوط کابل کے فوراً بعد ہی مختلف ممالک افغانستان میں اپنی دو دہائیوں کی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو بھول بھال کر اپنے اپنے سفارتکاروں اور شہریوں کو جلد از جلد یہاں سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔طالبان کی افغانستان میں یہ کامیابی ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں نمایاں تبدیلی کا پیش خیمہ بنے گی اور یہ خاص طور پر انڈیا کے لیے آزمائش کا باعث بنے گی جس کے تاریخی طور پر اپنے ہمسایوں پاکستان اور چین کے ساتھ نہ صرف کشیدہ تعلقات ہیں بلکہ سرحدی تنازعات بھی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان اور چین کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں ممالک کے مستقبل میں افغانستان میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔

پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ایک طویل مگر غیر محفوظ سرحد ہے اور طویل عرصے سے پاکستان افغانستان کے معاملات میں ایک فعال کھلاڑی رہا ہے۔ اب چین افغانستان میں بڑا کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ گذشتہ ماہ چین کے وزیر خارجہ کی سینیئر طالبان رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے ک بیجنگ اب اس معاملے میں خاموش کھلاڑی نہیں رہنا چاہتا۔افغانستان اور شام میں خدمات سرانجام دینے والے انڈیا کے سابق سفیر گوتم مکھوپادھیا کہتے ہیں کہ یہ ممکنہ جغرافیائی تبدیلیاں ‘معاملات کو الٹ کر رکھ سکتی ہیں۔’افغانستان میں کابل کی جمہوری حکومت، مغرب طاقتوں اور انڈیا جیسی دوسری جمہوریتوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد تھا۔ لیکن ممکن ہے کہ دنیا اب اس کھیل کے اگلے مرحلے میں پاکستان، روس، ایران اور چین کو اکھٹا ہوتے اور اپنا کردار ادا کرتے دیکھے۔

انڈیا میں کچھ لوگ اسں پورے معاملے کو دہلی کے لیے ایک نقصان اور پاکستان کے لیے ایک بڑی جیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن سابق انڈین سفارت کار جتیندر ناتھ مشرا کا کہنا ہے کہ ایسا کہنا ہی شاید آسان ہو کیونکہ پشتون رہنماؤں کی قیادت میں طالبان نے کبھی بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود سرحد کو تسلیم نہیں کیا، اور یہ بات اسلام آباد کے لیے کافی تکلیف دہ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘پاکستان چاہے گا کہ طالبان سرحد کو قبول کریں اور یہ اُن (پاکستان) کی اولین ترجیح ہوگی۔’لیکن یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت پاکستان کو انڈیا کے خلاف ‘سٹریٹجک ڈیپتھ’ فراہم کرے گی۔ واشنگٹن میں ولسن سینٹر تھنک ٹینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ پاکستان نے وہ حاصل کر لیا ہے جو وہ چاہتا تھا یعنی افغانستان میں ایک ایسی حکومت ہے جس پر وہ آسانی سے اثرانداز ہو سکیں۔

ان کے مطابق ‘پاکستانی حکام اسے انڈیا کے نقصان کے طور پر ظاہر کریں گے، لیکن پھر پاکستان کے لیے اس سے بڑے سٹریٹجک اہداف بھی ہیں۔ پاکستان واقعی خود کو اس وقت سب سے بڑے علاقائی فاتح کے طور پر سمجھ رہا ہے۔’ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور انڈیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور سابق افغان صدر اشرف غنی کے اسلام آباد کی جانب سرد مہری کے رویے سے خوش نہیں تھا۔اب اسلام آباد کے پاس یہ یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ پاکستان اس معاملے میں فاتح ہے کیونکہ ‘ہر موسم کے دوست’ چین کے ساتھ دوستی اب افغانستان میں مفید ثابت ہوگی۔ مزید یہ کہ بیجنگ اب اپنی طاقت دکھانے سے نہیں شرماتا۔ مشرا کے مطابق ‘اب چین اپنی مرضی کا کھیل کھیل سکتا ہے اور وہ ایسا ہی کرے گا۔’

چین کے افغانستان میں معاشی مفادات بھی ہیں، جو چین کی معدنیات کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چین طالبان پر ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) پر پابندی لگانے کے حوالے سے دباؤ ڈال سکتا ہے، جسے وہ اپنے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔مسٹر مکھوپادھیا کہتے ہیں کہ چین اور پاکستان افغانستان میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ بیجنگ کو محتاط رہنا چاہیے اور ماضی کی دیگر عالمی طاقتوں کی طرح کسی بھی جال میں نہ پھنسنا چاہیے۔روس اور ایران بھی اسی راہ پر گامزن نظر آتے ہیں۔ ان ممالک نے نہ تو افغانستان سے اپنے سفارت خانے خالی کیے ہیں اور نہ ہی سفارتکار اور دیگر عملہ واپس بلایا ہے۔تو اب انڈیا کیا کر سکتا ہے؟ انڈیا کبھی بھی افغانستان کی صورتحال میں پاکستان، امریکہ یا روس کی طرح ایک اہم ملک نہیں رہا۔لیکن انڈیا ہمیشہ سے افغانستان کے ساتھ دفاعی اور ثقافتی تعاون بڑھاتا رہا ہے۔ اب بھی انڈیا میں ہزاروں افغان شہری تعلیم، کام کاج یا علاج کی غرض سے موجود ہیں۔مسٹر مشرا کہتے ہیں کہ دہلی کے پاس زیادہ اچھی آپشن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘یا تو بری یا بہت بری آپشن موجود ہیں۔

انڈیا کو جو سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا وہ یہ ہے کہ آیا وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں یا نہیں۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گا خاص طور پر اگر روس اور چین طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں جیسا کہ انھوں نے سنہ 1999 میں کیا تھا۔انڈیا کے پاس اس وقت سب سے اچھی آپشن یہ ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنے روابط کا ذریعہ کھلا رکھے۔ لیکن اگر ہم دونوں فریقوں کے ماضی کے تعلقات کا جائزہ لیں تو یہ تعلقات میں مشکل پیدا کر سکتا ہے۔طالبان نے سنہ 1999 میں انڈیا طیارہ اغوا کرنے والوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا تھا۔ یہ وہ واقعے ہے جس کی گونج آج بھی انڈیا عوام کے کانوں سے ٹکراتی ہے۔
اور اس کے علاوہ انڈیا نے ہمیشہ شمالی خطے کے ان وار لارڈز کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے جو 1996 سے 1999 کے درمیان طالبان کے خلاف لڑتے رہے۔

طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد انڈیا کو اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام کے لیے شاید ماضی اب ایک طرف رکھنا چاہے۔یہ بھی خدشات ہیں کہ اب عسکریت پسند گروہ جیسا کہ جیش محمد، لشکر طیبہ دوبارہ سے سرگرم اور متحرک ہو جائیں گے اور انڈیا کے خلاف حملے کر سکتے ہیں۔لنکاسٹر یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر اور افغانستان پر ایک کتاب کے مصنف امالینڈو مشرا کا کہنا ہے کہ یہ ایک سفارتی تنگ راستہ ہے جس پر سے انڈیا کو چلنا پڑے گا۔اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک حکمت عملی کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ کشمیر کا متنازعہ علاقہ مجاہدین کے لیے اگلا گڑھ نہ بن جائے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو طالبان سے بات کرتے رہنے کی ضرورت ہے، یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ کتنا طالبان مخالف گروہوں کا حصہ بن سکتا ہے۔ مغرب ممکنہ طور پر طالبان پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ایک متحدہ اتحاد بنائے گا۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پہلے ہی طالبان حکومت کے لیے ایک متفقہ ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔یہاں دیگر امکانات بھی ہیں کہ افغانستان کے شمالی اتحاد کچھ دیر بعد اکھٹے ہو جائیں اور افغانستان میں امریکی قوتوں کی برتری یا روس، چین اور پاکستان کے مشترکہ گروہ کے درمیان ایک نیا محاذ جنگ کھل جائے۔لہذا انڈیا کے لیے راستہ آسان نہیں ہو گا لیکن اس کے فیصلے علاقائی امن اور عالمی جیو پولیٹکس پر اثر انداز ہوں گے۔(بہ شکر یہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔