افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور خاص طور پر ملک کے شمالی حصوں پر جنگجوؤں کے قبضے کے پیش نظر وسطی ایشیائی ریاستوں نے اپنی جنوبی سرحدوں کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔

حال ہی میں طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے سرحد پار کر کے تاجکستان اور ازبکستان فرار ہونے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

مبصرین طالبان کے اقتدار پر دوبارہ قبضے کے امکانات کو رد نہیں کر رہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ دیگر مسلح اور انتہا پسند گروہ عناصر وسطی ایشیائی ریاستوں میں پھیل سکتے ہیں۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ بین الافغان مذاکرات بحال ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں باوجود اس کے کہ گذشتہ سال امریکہ اور طالبان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے ایک معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کا یہ معاہدہ صرف اور صرف امریکی اور نیٹو فوج کو افغانستان سے نکالنے کے لیے کیا گیا تھا۔

افغانستان کی سرحد سے ملنے والی وسطی ایشیا کی دو ریاستوں، ترکمانستان اور ازبکستان نے طالبان سے براہ راست روابط قائم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

تاجکستان افغانستان کی تیسری ہمسایہ ریاست ہے جس کی افغانستان کے ساتھ 1344 کلومیٹر لمبی سرحد باقی دو وسط ایشیائی ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ طویل سرحد ہے۔ یہ پورے خطے میں سب سے غیر مستحکم علاقہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے اس پوری سرحد سے متصل افغان علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

سرحدوں پر مزید فوجیوں کی تعیناتی

تاجکستان کے صدر ایموملی رحمون نے جولائی کی پانچ تاریخ کو اپنی وزارتِ دفاع کو 20 ہزار کے قریب فوجیوں کو بلا کر افغانستان کی سرحد پر تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایک مقامی ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ توقع ہے کہ روس سات ہزار فوجی اور سو ٹینک تاجک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے روانہ کر رہا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا تھا کہ تاجکستان میں روس کی فوج کے ’201 فوجی اڈے‘ سے بھی کمک استعمال کی جا سکتی ہے۔

روس اور اس کے علاقائی اتحادی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تاجکستان کو مزید فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے روس کی سربراہی میں قائم اجتماعی سکیورٹی کے معاہدے میں شامل ملکوں (سی ایس ٹی او) سے بھی مدد لی جائے۔

گذشتہ ماہ ازبکستان کے وزیر دفاع بہادر قربانوف نے اپنے ملک کے جنوبی حصوں کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد ان علاقوں میں تعینات بحری اور فضائی افواج کی فوجی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔

ترکمانستان کے حکام بھی افغان سرحد کے ساتھ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اضافی لڑاکا طیارے اور راکٹ لانچر سرحد کے قریب تعینات کر رہے ہیں۔

قازقستان کے نائب وزیر دفاع تیمور ڈنڈی بایوف نے جولائی کی 09 تاریخ کو کہا تھا کہ ملک کی فوج پوری طرح چوکس اور جنگ کرنے کی حالت میں ہے۔

کرزغستان کے سکیورٹی کے سربراہ کماچیبک تاشیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ قومی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔

فوجی مہاجرین

تاجکستان اور ازبکستان نے حالیہ ہفتوں میں افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں کے سرحد پار کر کے ان کے ملکوں میں داخل ہونے کے درجنوں واقعات کی اطلاع دی ہے۔

تاجکستان نے کہا ہے کہ انھوں نے اچھے ہمسائے ہونے کے ناطے اور انسانی بنیادوں پر ان فوجیوں کو سرحد پار کرنے سے نہیں روکا۔
ازبکستان نے اس کے برعکس کہا کہ اس نے ہر مرتبہ فوری طور سرحد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو افغانستان واپس بھیج دیا اور وہ ایسا کرتا رہے گا۔ ازبکستان کی وزارتِ خارجہ نے جون کی 28 تاریخ کو کہا تھا کہ ازبک حکومت غیر جانبداری اور ہمسایہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے کار بند ہے۔

دریں اثنا ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے مسلح اور غیر مسلح مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد سے ان ملکوں کی غیر مستحکم معاشی صورتحال پر منفی اثر پڑے گا۔

لاکھوں کی تعداد میں ازبک اور تاجک النسل لوگ افغانستان کے شمالی صوبوں میں آباد ہیں۔

مقامی صحافی ایلگزینڈر خارلانکو نے ایک ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اگر افغانستان میں آباد ازبک اور تاجک لوگوں کا دس فیصد حصہ بھی جنگ سے جان بچانے کے لیے شمال کا رخ کرتا ہے تو خطے میں عدم استحکام بڑھ جائے گا اور اس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

ایشیا پلس نامی نیو ایجنسی نے تاجکستان کے ایک مبصر رحمتلو عبدالوف کے حوالے سے لکھا ہے افغانستان کے لوگ عام طور پر ملک کے اندر ہی نقل مکانی کرتے ہیں اور ان میں سے بہت کم سرحد پار کر کے دوسرے علاقوں میں جانا پسند کرتے ہیں۔

براہ راست کوئی خطرہ نہیں

ماہرین کی اکثریت اس رائے سے اتفاق کرتی ہے کہ طالبان صرف اور صرف کابل پر قبضہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے وہ کوئی خطرہ نہیں۔

لیکن امریکہ میں مقیم ازبکستان سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار رفائل ستاروف کے حوالے سے ایک ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ’اس تنظیم سے پیدا ہونے والے خطرے کی سنگینی کو نہ سمجھنا بے وقوفی ہو گی۔‘

قازقستان کے مبصر ضمیر کرازانوف نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان دوسرے ملکوں میں دہشت گرد حملوں کا ایک ذریعہ بن جائے گا۔ ایک اور مقامی تجزیہ کار زومابک سرابکوف کے حوالے سے ایک ویب سائٹ نے لکھا کہ اس کے علاوہ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ جو پہلے ہی کافی تشویشناک ہے اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ جلد ہی طالبان کی پیشرفت رک جائے گی اور وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ جائیں گے۔

الیگزینڈر کنیازوف کا کہنا ہے کہ طالبان کے ملک کے وسیع علاقے پر قبضے کی وجہ سے ان کی مذاکرات کی میز پر زیادہ بہتر پوزیشن ہو گی۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ دیگر شدت پسندوں گروہوں جن میں وسطی ایشیائی ممالک کے عناصر بھی شامل ہیں وہ وسطی ایشیا میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

روس سے تعلق رکھنے والے ایک تحزیہ کار اندرے سرینکوف کا کہنا ہے مسلح عناصر کے خطے میں داخل ہونے سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا انتہا پسندانہ اور شدت پسندانہ نظریات کے پھیلنے سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک درجن یا ایک سو مسلح افراد کے سرحد سے گھسنے آنے سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ سرحد پر جھڑپوں میں ہلاک ہو سکتے ہیں لیکن ہتھیاروں کے استعمال سے نظریات اور پراپیگنڈے کو روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کی مقامی زبانوں میں پھیلنے سے روکنا کافی نہیں ہو گا۔‘

طالبان سے سفارت کاری

ازبکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ طالبان کو افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا حصہ ہونا چاہیے اور ملک کے نئے صدر سخاوت مرزئیوف کے تحت تاشقند نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔

کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد ازبکستان نے قطر میں طالبان کے دفتر کے ایک وفد کی اگست 2018 میں پہلی مرتبہ میزبانی کی تھی۔ ازبکستان کے وزیر خارجہ عبداللہ عزیز کاملوف اس کے بعد سے طالبان کے ساتھ قطر میں ان کے دفتر میں کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

ازبکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں اس کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

کاملوف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’افغانستان میں امن عمل کے شروع ہونے میں صدر سخاوت مرزئیوف کی حقیقت پسندی اور سیاسی عزم کا بڑا حصہ ہے اور دوحا کے تاریخی معاہدے طے پانے میں یہ بڑا اہم عنصر ہے۔ اس معاہدے کا مطلب ازبکستان میں امن اور استحکام ہے۔‘

ایک امریکی نشریاتی ادارے کو حالیہ انٹرویو میں کاملوف نے کہا کہ ازبکستان طالبان کے رہنماؤں سے براہ راست رابطہ کرنے والا سب سے پہلا ملک ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم تصور نہیں کرتے اگر طالبان دہشت گرد ہوتے تو امریکہ ان سے کبھی مذاکرات نہ کرتا۔

ترکمانستان بھی طالبان سے رابطے میں ہے اور دوحا سے طالبان کے ایک وفد نے اس سال فروی میں اشک آباد، ترکمانستان کا دورہ کیا تھا۔ ترکمستان کی ریڈیو لبرٹی سروس نے قطر میں طالبان کے ترجمان کے حوالے سے خبر دی تھی کہ طالبان کے نمائندوں نے اس سال جولائی کو ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد کا ایک اور دورہ کیا تھا جس میں باہمی معاشی اور سیاسی تعلقات کے علاوہ سرحدوں کی سکیورٹی پر بات کی گئی تھی۔

تاجکستان میں اس تحریک پر پابندی ہے اور دوشنبہ نے کبھی اس کو سیاسی قوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔