یونیورسٹیوں کے نئے ٹائم ٹیبل کے بموجب ہفتہ میں تین دن تمام خواتین طلباء کو دئے جائیں گے جس کے دوران لڑکوں کو کلاسیس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی وہیں باقی تین دن لڑکوں کے لئے ہوں گے جس میں لڑکیوں کی موجودگی نہیں ہوگی

نئی دہلی۔ افغانستان کے حکمران طالبان نے ایک نیا فارمولہ تیار کیاہے جو بظاہر لڑکوں او رلڑکیوں کو تعلیم دینے کے ان کے خالص مذہبی اصولوں کے مطابق ہے۔ لڑکیاں پیر چہارشنبہ اور ہفتہ کے روز یونیورسٹی جائیں گے وہیں لرکے منگل‘ جمعرات اوراتوار کے روز کلاسیس میں شرکت کریں گے۔

ایک عجیب وغریب فرمان میں طالبان کے وزیراعلی تعلیم نے مرد اور خواتین اسٹوڈنٹس کے لئے ہفتہ میں مخصوص ایام کا اعلان کیاہے تاکہ وہ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرسکیں‘ ٹھیک ایک دن کا وقفہ کے اسکیم کی طرح۔

یونیورسٹیوں کے نئے ٹائم ٹیبل کے بموجب ہفتہ میں تین دن تمام خواتین طلباء کو دئے جائیں گے جس کے دوران لڑکوں کو کلاسیس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی وہیں باقی تین دن لڑکوں کے لئے ہوں گے جس میں لڑکیوں کی موجودگی نہیں ہوگی۔ خامہ پریس کی خبر کے مطابق اس پائلٹ پراجکٹ کا سب سے پہلے کابل یونیورسٹی او رکابل پولی ٹیکنیک یونیورسٹی میں نفاذ عمل میں آیاہے۔

اعلی تعلیم کے وزیر کا کہنا ہے کہ ”اس نئے انتظام کے ساتھ مرد اور خواتین اسٹوڈنٹس کو سائنسی تحقیق اور مشقی سرگرمیوں کے لئے کافی وقت ملے گا“۔ طالبان کے اس صنفی فیصلے کے پس پردہ دلیل یہ ہے کہ ان کے پاس لڑکیوں کے لئے علیحدہ اسکولوں او رکالجوں کی تعمیرکے لئے پیسے نہیں ہیں۔

جب سے انہوں نے عورتوں کے کام کرنے پر روک لگائی ہے‘ طالبان کے پاس لڑکیوں کو علیحدہ تعلیم دینے کے لئے خاتون ٹیچرس نہیں ہیں۔ پاکستان نژاد افغان صحافی نعت خان کا کہنا ہے کہ ”طالبان نے وعدہ کیاہے کہ ایک ہفتہ میں دن کی تعلیم دینے کے لئے خاتون ٹیچرس کا وہ تقرر عمل میں لائیں گے مگر ان کے وعدے پر کسی کو بھی بھروسہ نہیں ہے“۔

کیونکہ طالبان کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کے لئے سکنڈری تعلیم پر امتناع جاری ہے‘ افغانستان کے لوگوں ملک بھر میں احتجاج او رریالیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مذہبی اسکالر بھی اس امتناع کے خلاف مسلسل بو ل رہے ہیں۔ اس سے قبل مشترکہ تعلیمی نظام کو طالبان نے یونیورسٹیوں میں ختم کردیاتھا دن کے اوقات میں لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی تھیں جبکہ دوپہر کے اوقات میں لڑکے تعلیم حاصل کررہے تھے وہیں افغانستان بھر میں لڑکیوں کے لئے سکنڈری اسکولوں کو بند کردیاگیا تھا جس کو اب تک نہیں کھولا گیاہے۔

افغانستان میں 70فیصد سے زائد خواتین لکھنے پڑھنے سے محروم ہیں۔ ورلڈ بینک کے بموجب ایشیاء میں سب سے برا تعلیمی حال افغانستان کی خواتین کا ہے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ طالبان لڑکیوں کو تعلیم دینے سے مسلسل انکار کررہی ہے تو وہیں ان کے اعلی قائدین کی بیٹیاں دوحا او رپاکستان کے بڑے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ان قائدین میں وزیر صحت قلند عباد‘ ڈپٹی فارین منسٹر شیر محمد عباس اسٹانک زائی او رترجمان سہیل شاہین کے نام شامل ہیں۔

ایک چونکا دینے والا انکشاف افغان انالیسٹ نٹ ورک (اے اے این) کی رپورٹ میں ہوا ہے کہ طالبان کے قائدین کس طرح اپنی بیٹیوں کو بیرون ممالک کے اسکول کو بھیج رہے ہیں جبکہ افغانستان میں خواتین کی سکنڈری اسٹوڈنٹس کو کلاس روم میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔