• 425
    Shares

مذکورہ طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی نئی حکومت ”اسلامی امارات افغانستان“ رہے گی۔
کابل۔اسلامی امارات برائے افغانستان کے سربراہ ملہ ہیبت اللہ اخند شورش زدہ ملک میں طالبان حکومت کے نئے سربراہ ہوں گے‘مذکورہ گروپ نے یہ اعلان کیاہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے ٹولو نیوز کے خبر کے مطابق کہا ہے کہ مذکورہ گروپ اگلی حکومت کے قدوخال کی تشکیل کے نام پر غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرے گا۔

مجاہد نے کہاکہ”ہم کسی کو بھی افغانستان کے امور میں مداخلت اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت کا نام‘ اس کا انداز او رطریقہ کار افغانیو ں کا ہے او راس کا فیصلہ بھی وہی کریں گے“۔

مذکورہ طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی نئی حکومت ”اسلامی امارات افغانستان“ رہے گی۔طالبان کے ثقافتی کمیشن کے ایک رکن انعام اللہ سمانغنی نے کہاکہ ”مذکورہ نئی حکومت افغانستان میں سرکاری طور پر اپنے کام کی شروعات اسلامی امارات برائے افغانستان کے نام پر کرے گی“۔

جمعرات کے روز یہ ڈیولپمنٹ اس وقت سامنے اس وقت آیاجب منگل کی رات کو افغانستان نگران کار حکومت کی تشکیل کا اعلان کیاگیاتھا۔

ملہ محمد حسن اخند کو کارگذار وزیراعظم‘ ملہ عبدالغنی بردار اورعبدالسلام حنفی کو کارگذارنائب وزیراعظم وہیں‘ ملہ محمد یعقوب ولد ملہ عمر کو کارگذار وزیر دفاع بنایاگیاہے۔

عامر خان متقی کو کارگذار وزیر خارجہ اور سراج الدین حقانی ولد حقانی نٹ ورک دہشت گرد گروپ کے بانی کو کارگذار داخلی وزیر کے طور پر نامزد کیاگیاہے۔

طالبان کے مطابق مذکورہ تقررات قطعی نہیں ہیں کیونکہ کارگذار موقف کے طور پر یہ اعلان کئے گئے او رماباقی ناموں کو بعد میں اعلا ن کیاجائے گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں