طالبان نے بظاہر خواتین کے امور سے متعلق وزارت کو بند کر دیا ہے اور اس کی جگہ اسی محکمے کو واپس لے آئے ہیں جو کبھی ملک میں سخت گیر مذہبی عقائد کو نافذ کرتا تھا۔

جمعے کو وزارتِ خواتین کی عمارت سے اس کا بورڈ ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بورڈ لگا دیا گیا۔

یہ وزارت کام کیا کرتی ہے؟

کابل میں اس وزارت کے دفتر کے باہر لگے بورڈ کے مطابق اس کا پورا نام وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے یعنی نیکیوں کا حکم دینا اور برائی کو روکنا۔یہ طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی موجود تھی لیکن پھر 1996 سے سنہ 2001 تک ان کے دوران میں اس وزارت کو پھیلا دیا گیا تھا۔

اس وزارت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ نام نہاد اخلاقی پولیس سڑکوں پر تعینات کرے تاکہ شریعت یعنی اسلامی مذہبی قانون کی طالبان کی سخت گیر تشریح کو نافذ کیا جا سکے۔یہ پولیس ان خواتین کو مارنے کے حوالے سے بھی جانی جاتی تھی جو ’غیر مہذب‘ کپڑے پہنتی تھیں یا جو مرد محرم کے بغیر گھر سے نکلتی تھیں۔ لڑکیوں کو وہاں پانچویں جماعت سے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں تھی، اور بظاہر طالبان نے یہ پابندی دوبارہ متعارف کروا دی ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین اپنے دفاتر کے باہر موجود ہیں اور طالبان سے درخواست کر رہی ہیں کہ انھیں کام پر واپس آنے دیں۔نوّے کی دہائی میں جب طالبان نے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا تو انھوں نے یہاں سخت اسلامی قوانین لاگو کیے تھے اور عورتوں پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

گذشتہ 20 برسوں میں افغان خواتین نے اپنے کئی بنیادی حقوق جدوجہد کے ذریعے حاصل کیے ہیں لیکن اب اس تمام پیش رفت کے طالبان کی مردوں پر مشتمل حکومت کے باعث خطرے میں پڑ جانے کے خدشات ہیں۔

کابل میں موجود بی بی سی کی مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی اُمور لیز ڈوسیٹ کے مطابق ویسے تو طالبان رہنما یقین دلا رہے ہیں کہ وہ بھی افغانستان کی طرح تبدیل ہو چکے ہیں مگر وعدوں اور پالیسیوں میں تضاد بڑھ رہا ہے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے پہلے بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر نامی اس وزارت پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا، شہریوں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں پر پُرتشدد پابندیاں عائد کرنا اور لوگوں میں خوف اور عدم اعتماد پھیلانا ہے۔

لیکن ایک طالبان رکن محمد یوسف نے نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بہت اہم ہے۔ ’بنیادی مقصد اسلام کی خدمت ہے۔ اس لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کا ہونا ضروری ہے۔‘

طالبان کے پہلے دور میں تفریح کے ذرائع جیسے کہ موسیقی اور رقص پر پابندی لگ گئی تھی اور اسی طرح شطرنج کھیلنا یا پ،نگ اڑانا بھی ممنوع تھا۔ نماز کے اوقات کی سخت پابندی کروائی جاتی، مردوں کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا جاتا اور مغربی انداز میں بال ترشوانے کو برا سمجھا جاتا۔

جو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا اسے سخت سزا دی جاتی۔ کوڑے مارے جانا، ہاتھ کاٹنا اور عوام کے سامنے سزائے موت دینا وہاں غیر معمولی بات نہیں تھی۔طالبان کے دو رہنماؤں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ انھیں توقع نہیں ہے کہ طالبان اب بھی ماضی کی طرح ہی طاقت کا استعمال کریں گے اور یہ کہ قوانین کا نفاذ کرنے والے پولیس اہلکار یا فوجی نہیں ہوں گے۔

افغانستان پر امریکہ کے قبضے کے بعد اس وزارت کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم قدامت پسندوں کے دباؤ کے باعث سنہ 2006 میں صدر حامد کرزئی نے اسی جیسا لیکن ایک کم اختیارات کا حامل ادارہ دوبارہ بنایا تھا۔اس وقت ہیومن رائٹس واچ نے وزارت کو ’من مانی زیادتیوں کی بدنام علامت‘ قرار دیا تھا۔

افغان عورتوں کو کیا کرنا چاہیے

خواتین کی وزارت میں کام کرنے والی چند عورتیں جن کا دفتر یہاں تھا، کہتی ہیں کہ وہ کئی ہفتوں سے کام پر واپس آنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔

ایک خاتون نے کہا کہ ’اب خواتین کے لیے کچھ نہیں بچا ہے۔ ہم سب پر اپنے خاندانوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ ہم پڑھی لکھی ہیں اور ہم گھروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔‘

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے تحت خواتین کو مذہب اسلام کے قانون کی تشریح کے مطابق پڑھنے اور کام کرنے کی اجازت ہو گی۔

خواتین سے کہا گیا ہے کہ جب تک سکیورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں ہو جاتی وہ گھروں میں ہی رہیں۔ ایسے میں جو خواتین گھروں سے باہر نکل کر مردوں کی عبوری حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئیں اُنھیں طالبان جنگجوؤں نے مارا پیٹا۔کمپاؤنڈ کے باہر موجود ایک اور خاتون نے کہا کہ جب کوئی وزارت ہی نہیں ہو گی تو افغان عورتیں کیا کریں گی؟ کیا ان (طالبان) کا ضمیر اس پر آمادہ ہو گا کہ اگر افغان خواتین سڑکوں پر بھیک مانگیں؟‘