• 425
    Shares

کابل۔ جہدکار اورنوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اتوار کے روز افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے پیش نظر تشویش کا اظہار کیا اورکہاکہ وہ ملک کے حالات کی وجہہ سے پریشان ہیں۔ملالہ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ”افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کا ہم نے مکمل حیرت میں مشاہدہ کیاہے۔

میں عورتوں‘ اقلیتوں اور انسانی حقوق کے وکلاء کے متعلق گہری پریشانی میں ہوں“۔

ملالہ نے زوردیا کہ عالمی‘ علاقائی اور مقامی پاؤرس شور ش زدہ مذکورہ ملک میں ”فوری ایک جنگ بندی کرائیں اور فوری انسانی امداد فراہم کریں اور پناہ گزینوں اور شہروں کو تحفظ فراہم کریں“

۔تقریبا60سے زائد ممالک نے غیرملکیوں اورافغانیوں کوچھوڑ دینے کا طالبان سے مطالبہ کیا ہے‘ ساٹھ سے زائد ممالک بشمول امریکہ‘ یوکے‘ جاپان‘ جرمنی‘ اور کینڈا نے اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق زوردیا ہے کہ ”کل جماعتی‘ ’غیرملکیوں اورافغانیوں کی بحفاظت روانگی جوشور ش زدہ ملک کوچھوڑنا چاہتے ہیں کو یقینی بنائیں اور کہاکہ سڑکیں‘ ائیرپورٹرس‘ سرحدی حمل ونقل کوکھلا رکھیں۔

مذکورہ مشترکہ بیان امریکہ محکمہ خارجہ نے افغان کی درالحکومت کابل پرطالبان کے داخلے اورصدراتی محل پر قبضے کے فوری بعد جاری کیاہے۔

اتو ار کے روز جاری کردہ اس بیان میں لکھا کہ”افغانستان بھر میں اقتدار اور انتظامیہ ہے وہ جائیدادوں‘ انسانی زندگیوں اور فوری سکیورٹی کی بحالی اورسیول آرڈر کی حفاظت کا ذمہ داراور جوابدہ ہے۔

امریکہ کے بیان میں شامل ہوتے ہوئے اسڑیلیا‘ اسڑیا‘ بہاماس‘ بلجیم‘ بورکینا فاسو‘ کینڈا‘ چیلی‘ کولمبیا‘ کوسٹا ریکا‘ کوڈا ڈی ایوائیری‘ چیک رپبلک‘ ڈنمارک‘ ڈومنیکا رپبلک‘ ای ائی سالواڈور‘ ایسٹونیا‘

یوروپی یونین برائے خارجی امور او رسکیورٹی پالیسی کے اعلی نمائندگان‘ فیڈریڈ اسٹیٹس برائے مائیکرو نیسیا‘ فی جی‘ فن لینڈ‘ فرانس‘ جارجیا‘ جرمنی‘ گھانا‘ گریس‘ گاؤتیمالا‘ گویانا‘ ہیتی‘ ہنڈراؤس‘ ائیس لینڈ‘ ائیر لینڈ‘ اٹلی‘ جاپان‘ لاتویا‘ لیباریا‘ لیچنستان‘ لیتھویانیا‘ لکژامبرگ‘ مالٹا‘مارشل ائیس لینڈس‘ موارایاتانیا‘

ناؤرو‘ نیدر لینڈس‘ نیوز ی لینڈ‘ ناگیر‘ ناروے‘ پالاؤ‘ پناماں‘ پاراگاؤ‘ پولینڈ‘ پرتوگال‘ قطر‘ رپبلک کوریا‘ ریپبلک سائپریس‘ روامنیا‘ سیریا لیونا‘ سالواکیا‘ سالوینیا‘ اسپین‘ سورینام‘ سویڈین‘ ٹوگو‘ ٹونگا‘ یوگانڈا‘ یوکے‘ یوکریں اوریمن شامل ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں