• 425
    Shares

کابل، 16 اگست (یوا ین آئی) افغان حکومتی عہدیداروں کے فرار کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول طالبان نے سنبھال لیا اور اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے۔خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کابل میں تیز ترین پیش رفت، خوف اور افراتفری کا ماحول رہا، جس کے بعد بالآخر رات گئے بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے خالی صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔اس دوران مغربی ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مصروف رہے جبکہ سیکڑوں افغان شہری بھی ملک چھوڑنے کے لیے کابل ایئر پورٹ پہنچے۔

طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر نے بھی ایک آن لائن ویڈیو فتح کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘اب یہ امتحان اور ثابت کرنے کا وقت ہے، اب ہمیں یہ دکھانا ہے کہ ہم اپنی قوم کی خدمت کرسکتے ہیں اور آرام دہ زندگی اور تحفظ یقینی بناسکتے ہیں ‘۔طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گروہ تنہائی میں نہیں رہنا چاہتا اور افغانستان کی نئی حکومت کی شکل جلد واضح ہوگی۔ساتھ ہی انہوں نے نے پر امن بین الاقوامی تعلقات رکھنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جنگ ختم ہوچکی ہے‘۔انہوں نے کہاکہ ’ہم جو حاصل کرنا چاہ رہے تھے اس تک پہنچ گئے جو ہمارے ملک اور عوام کی آزادی ہے’۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

خیال رہے کہ عسکریت پسند مزاحمت کے بغیر جلال آباد فتح کرنے کے بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے تھے جہاں ان کے اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے افغان رہنما سے بات چیت بھی ہوئی۔
ایک طالبان رہنما نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف صوبوں سے جنگجو دوبارہ منظم ہورہے ہیں اور نیا حکومتی ڈھانچہ تشکیل دینے سے قبل غیر ملکی افواج کے ملک سے جانے کا انتظار کیا جائے گا۔شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر طالبان رہنما نے کہا کہ جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ افغان عوام کو روزمرہ کے امور انجام دینے کی اجازت دی جائے اور ایسا کچھ نہ کیا جائے جس سے شہری خوفزدہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ ’میں فی الحال یہی کہہ سکتا ہوں کہ معمول کی زندگی کہیں بہتر طریقے سے جاری رہے گی‘۔

طالبان جنگجووں نے افغان دارالحکومت میں شہریوں سے ہتھیار اکٹھے کرنے شروع کردیے کیوں کہ طالبان عہدیدار کے مطابق اب انہیں اپنے حفاظت کے لیے ان کی ضرورت نہیں۔عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ہم سمجھ سکتے ہیں کہ لوگ اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار رکھتے ہی لیکن انہیں محفوظ تصور کرنا چاہیے، ہم یہاں شہریوں کو نقصان پہنچانے نے لیے نہیں ہیں۔ایک میڈیا کمپنی کے عہدیدار نے ٹوئٹ میں بتایا کہ طالبان جنگجو ان کی کمپنی میں آئے اور سیکیورٹی ٹیم کے پاس موجود ہتھیاروں کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔