افغانستان: مسجد میں دھماکہ ٗ طالبان حامی رہنما مولوی مجیب الرحمان انصاری سمیت 18 افراد ہلاک

497

ہرات: (ایجنسیز)افغانستان کے شمال مشرقی صوبے ہرات کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں طالبان کے حامی مذہبی رہنما مولوی مجیب الرحمان ہلاک ہو گئے ہیں۔طالبان حکومت کی وزارت داخلہ نے واقعے کی تصدیق کی ہے اور وزرات کے ترجمان عبدالنفی تکور نے کہا کہ ’ہرات کی گزرگاہ مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ہمارے کچھ ہم وطن زخمی اور ہلاک ہوئے،

تاہم درست تعداد میں ابھی تک نہیں جانتا۔‘طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پھر اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا کہ اس دھماکے میں مولوی مجیب الرحمان انصاری بھی مارے گئے ہیں۔طلوع نیوز نے رات کے گورنر کے ترجمان حمید اللہ متوکل کے حوالے سے بتایا کے دھماکے میں اب تک 18 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہیں۔طالبان ترجمان نے کہا کہ ’امارت اسلامیہ ان ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتی ہے‘ اور مجرموں کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔

ہرات میں طالبان حکومت کے پہلے نائب ملا برادر کی قیادت میں ایک اقتصادی اجلاس ہوا جس میں مولوی انصاری نے تقریر کی۔ تقریر کے بعد وہ اجلاس سے نکل گئے اور حملے میں مارے گئے۔سوشل میڈیا پر اس حملے سے منسوب کچھ ویڈیوز موجود ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ شدید تھا۔ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔