• 425
    Shares

افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اسے پوری دنیا ‘سلطنتوں کے قبرستان’ کے نام سے جانتی ہے؟ آخر امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اسے جیتنے کی کوشش میں کیوں ناکام ہوئیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب افغانستان کی تاریخ اور اس کے جغرافیائی محل و وقوع میں پوشیدہ ہے۔

19 ویں صدی میں برطانوی سلطنت، جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی، اس نے اپنی پوری طاقت سے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سنہ 1919 میں برطانیہ کو بالآخر افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا اور افغانوں کو آزادی دینی پڑی۔

اس کے بعد سوویت یونین نے سنہ 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ سنہ 1978 میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے۔ لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دس سال لگے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت پائیں گے۔

برطانوی سلطنت اور سوویت یونین کے درمیان ایک قدر مشترک ہے۔ جب دونوں سلطنتوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اپنی طاقت کے عروج پر تھے۔ لیکن اس حملے کے ساتھ آہستہ آہستہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں۔

سنہ 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ ہوا اور کئی سالوں تک جاری رہنے والی جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے 20 سال بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنی فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ ایک متنازعہ فیصلہ تھا جس پر پوری دنیا میں شدید تنقید کی گئی۔ اس ایک فیصلے کی وجہ سے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر انتہائی تیزی سے قبضہ کر لیا ہے۔

بائیڈن نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریوں کو ‘ایسی جنگ میں نہیں مرنا چاہیے جسے افغان خود لڑنے کے لیے تیار نہ ہوں۔’

بائیڈن نے افغانستان کی ‘سلطنتوں کے قبرستان’ کے طور شہرت کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘ چاہے کتنی ہی فوجی قوت کیوں نہ لگا لیں ایک مستحکم، متحد اور محفوظ افغانستان کا حصول ممکن نہیں ہے۔’

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

حالیہ صدیوں میں افغانستان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے والی دنیا کی طاقتور فوجوں کے لیے افغانستان ایک قبرستان ہی ثابت ہوا ہے۔

ابتدا میں ان حملہ آور لشکروں کو کچھ کامیابی ملی ہو لیکن آخر میں انھیں افغانستان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔

افغانستان کی تاریخ پر ‘افغانستان: سلطنتوں کا قبرستان’ نامی کتاب لکھنے والے اور دفاع اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار ڈیوڈ اسبی ، جنہوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا: ‘ایسا نہیں ہے کہ افغان کافی طاقتور ہیں۔ لیکن افغانستان میں جو کچھ ہوا ہے اس کی وجہ حملہ آور قوتوں کی غلطیاں ہیں۔’

بڑی طاقتوں کو شکست کیوں ہوئی؟

اسبی کا کہنا ہے کہ اگر غیرجانبداری کے ساتھ دیکھا جائے تو افغانستان ایک مشکل جگہ ہے۔ یہ ایک پیچیدہ ملک ہے جہاں انفراسٹرکچر کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے، بہت محدود ترقی ہے اور یہ خطہ ہر طرف زمین سے گھرا ہوا ہے۔

بہرحال اسبی کا کہنا ہے کہ ‘سوویت یونین، برطانیہ یا امریکہ کسی بھی سلطنت نے افغانستان کے ساتھ لچیلے پن کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ وہ اپنی راہ جانا چاہتے تھے اور وہ گئے بھی، لیکن انھوں نے کبھی افغانستان میں موجود پیچیدگیوں کو نہیں سمجھا۔’

اکثر کہا جاتا ہے کہ افغانستان کو فتح کرنا ناممکن ہے۔ یہ ایک غلط بیان ہے: ایرانیوں، منگولوں اور سکندر نے افغانستان کو فتح کیا ہے۔

لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ ایسی دلیری ہے جس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اور اس سے قبل کابل پر حملہ کرنے والی آخری تین بڑی سلطنتیں اپنی کوشش میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔

برطانوی سلطنت اور تین حملے

19 ویں صدی کے بیشتر حصے میں افغانستان وسطی ایشیا کو کنٹرول کرنے کے لیے برطانوی اور روسی سلطنتوں کے درمیان جنگ کا ایک اہم سٹیج تھا۔

اس کے تعلق سے روس اور برطانیہ کے درمیان کئی دہائیوں تک سفارتی اور سیاسی کشمکش جاری رہی جس میں بالآخر برطانیہ کی جیت ہوئی۔ لیکن برطانیہ کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑی۔

برطانیہ نے افغانستان پر سنہ 1839 اور 1919 کے درمیان تین مرتبہ حملہ کیا اور کہا جا سکتا ہے کہ برطانیہ تینوں بار ناکام رہا۔

سنہ 1839 کی پہلی اینگلو افغان جنگ میں برطانیہ نے کابل پر قبضہ کر لیا۔ کیونکہ برطانیہ کا خیال تھا کہ اگر اس نے یہ قدم نہیں اٹھایا تو روس کابل پر قبضہ کر لے گا۔

اس کی وجہ سے برطانیہ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ قبائل نے دنیا کے طاقتور ترین ملک کی فوج کو انتہائی معمولی ہتھیاروں سے تباہ کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

بڑی شکست

تین سال کے حملے کے بعد بالآخر افغانستان نے حملہ آور فوج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

6 جنوری سنہ 1842 کو جو 16000 فوجی برٹش کیمپ سے جلال آباد روانہ ہوئے تھے ان میں سے صرف ایک برطانوی شہری زندہ واپس آیا۔

اسبی بتاتے ہیں کہ اس ‘جنگ نے برصغیر میں برطانوی توسیع پسندانہ پالیسی کو کمزور کیا اور اس تصور کو بھی نقصان پہنچایا کہ انگریز ناقابل تسخیر ہیں۔’

چار دہائیوں کے بعد برطانیہ نے ایک بار پھر کوشش کی۔ اس بار اسے کچھ کامیابی ملی۔

اور سنہ 1878 سے 1880 کے درمیان دوسری اینگلو افغان جنگ کے نتیجے میں افغانستان برطانیہ کی حفاظت والی ریاست بن گیا۔ لیکن برطانیہ کو کابل میں ریزیڈنٹ وزیر رکھنے کی اپنی پالیسی ترک کرنی پڑی۔

اس کے بجائے سلطنت برطانیہ نے ایک نیا افغان امیر منتخب کر کے اپنی فوجیں ملک سے واپس بلا لیں۔

لیکن سنہ 1919 میں جب اس نئے امیر نے خود کو برطانیہ سے آزاد قرار دیا تو تیسری اینگلو افغان جنگ شروع ہوئی۔

یہ وہ وقت تھا جب ایک جانب بالشویک انقلاب نے روسی خطرے کو کم کر دیا اور دوسری جانب پہلی جنگ عظیم نے برطانوی فوجی اخراجات میں بہت اضافہ کر دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں برطانوی سلطنت میں افغانستان کے بارے میں دلچسپی کم ہو گئی۔

اسی وجہ سے چار ماہ کی جنگ کے بعد برطانیہ نے بالآخر افغانستان کو آزاد قرار دے دیا۔

اگرچہ برطانیہ افغانستان میں سرکاری طور پر موجود نہیں تھا لیکن یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس نے کئی سالوں تک وہاں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

سوویت یونین کی جنگ

سنہ 1920 کے دوران امیر امان اللہ خان نے ملک میں اصلاح لانے کی کوشش کی۔ ان میں خواتین کے برقعہ پہننےکے رواج کوختم کرنا بھی شامل تھا۔ اصلاح پسندوں کی ان کوششوں نے کچھ قبائل اور مذہبی رہنماؤں کو ناراض کر دیاجس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

اس خانہ جنگی کی وجہ سے افغانستان کی صورتحال کئی دہائیوں تک کشیدہ رہی اور سنہ 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر دیا تاکہ ایک بری طرح سے غیر منظم کمیونسٹ حکومت کو اقتدار میں برقرار رکھا جا سکے۔

کئی مجاہدین تنظیموں نے سوویت یونین کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں مجاہدین نے امریکہ، پاکستان، چین، ایران اور سعودی عرب سے پیسے اور اسلحے حاصل کیے۔

روسیوں نے ان علاقوں اور وہاں کے دیہاتوں پر زمینی اور فضائی حملے کیے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ مسئلے کی جڑ ہیں۔ اس کی وجہ سے مقامی آبادی اپنے گھر چھوڑنے یا مرنے مارنے پر مجبور ہو گئی۔

اس حملے میں بہت زیادہ خون بہے۔ اس جنگ میں تقریبا 15 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور پچاس لاکھ لوگ پناہ گزین بن گئے۔

ایک زمانے تک سوویت یونین کی فوج بڑے شہروں اور قصبوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہی۔ لیکن دیہی علاقوں میں مجاہدین نسبت زادانہ گھومتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

سوویت یونین کی فوج نے کئی طریقوں سے انتہا پسندی کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن گوریلا فوجی اکثر ایسے حملوں سے بچ جاتے تھے۔ اس جنگ میں پورا ملک تباہ ہو گیا۔

اسی دوران اس وقت کے سوویت لیڈر میخائل گورباچوف نے محسوس کیا کہ روسی معیشت کو تبدیل کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ جنگ جاری نہیں رکھ سکتے اور انھوں نے سنہ 1988 میں اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔

لیکن اس انخلا سے سوویت یونین کی تصویر کبھی اچھی نہ ہوسکی۔ افغانستان سوویت یونین کے لیے ‘ویت نام جنگ’ بن گیا۔ یہ ایک انتہائی مہنگی اور شرمناک جنگ تھی جس میں سوویت یونین اپنی تمام تر طاقت لگا دینے کے باوجود مقامی گوریلا جنگجوؤں کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوا۔

اسبی کہتے ہیں کہ ‘سوویت یونین نے افغانستان میں جائز حکومت کا اس وقت دعویٰ کیا جب سوویت نظام میں اس کی حکومت اور اس کی فوج کے درمیان سنگین اور بنیادی تنازعات تھے۔

‘یہ سوویت یونین کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک تھی۔’ اس کے بعد سوویت یونین ٹوٹنے لگا اور تقسیم ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

امریکی مہم اور تباہ کن واپسی

افغانستان میں برطانیہ اور سوویت یونین کی ناکام کوششوں کے بعد امریکہ نے 9/11 کے حملوں کے بعد افغانستان میں جمہوریت کی حمایت اور القاعدہ کے خاتمے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا۔

اس سے قبل کی دو سلطنتوں کی طرح امریکہ بھی تیزی سے کابل فتح کرنے اور طالبان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہا۔

افغان حکومت تین سال بعد وجود میں آئی لیکن طالبان کے حملے جاری رہے۔ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے سنہ 2009 میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر کے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا۔ لیکن یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکا۔

سنہ 2001 میں جنگ کے آغاز کے بعد سنہ 2014 میں سب سے زیادہ خونریزی دیکھی گئی۔ نیٹو افواج نے اپنا مشن مکمل کیا اور ذمہ داری افغان فوج کے حوالے کر دی۔

اسی وجہ سے طالبان نے زیادہ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگلے سال پے در پے خودکش دھماکے ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں کابل کی پارلیمنٹ اور ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے دھماکے بھی شامل ہیں۔

اسبی کے مطابق امریکی حملے میں بہت سی چیزیں غلط طریقے سے کی گئیں۔

وہ کہتے ہیں: ‘فوجی اور سفارتی کوششوں کے باوجود بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ امریکہ اور عالمی برادری پاکستان کو پراکسی جنگ کرنے سے نہیں روک سکا جس نے اپنی کامیابی ثابت کی۔

‘اور یہ دوسرے ہتھیاروں سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔’

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

زیادہ خرچیلی جنگ

اگرچہ سوویت یونین کی جنگ کے نتیجے میں زیادہ خونریزی ہوئی لیکن امریکی حملہ زیادہ مہنگا ثابت ہوا۔

سویت یونین کے افغانستان جنگ میں اگر دو ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوئے وہیں امریکہ کی جانب سے سنہ 2010 اور 2012 کے درمیان سالانہ تقریبا 100 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

لیکن سقوط کابل کو جنوبی ویت نام کے واقعات سے بھی تشبیہ دی گئی ہے۔

ریپبلکن پارٹی کی کانگریس میں رکن اسٹیفنک نے ٹویٹ کیا: ‘یہ جو بائیڈن کا سائیگون ہے۔

‘بین الاقوامی منظر نامے پر ایک تباہ کن ناکامی جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔’

امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان کے قبضے سے افغانستان میں ایک قسم کا انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے جس کے سبب لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

اسبی کا کہنا ہے کہ ‘آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ آیا بین الاقوامی برادری کی طرف سے طالبان حکومت کو منظور کیا جائے گا یا نہیں۔ مجھے اس معاملے پر بہت زیادہ شکوک و شبہات ہیں۔’

اور اگر عالمی برادری کے لیے طالبان سے نمٹنا ناممکن ہو جاتا ہے تو یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ کیا کوئی دوسری طاقت دنیا کی سلطنتوں کا قبرستان کہے جانے والے افغانستان پر حملہ کرنے کا خطرہ مول لیتی ہے؟

ناربرٹو پریڈیس

بی بی سی منڈو سروس

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔