نئی دہلی: امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے طاقتور ہونے کے دوران خانہ جنگی کے حالات سے دو چار افغانستان میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے لئے کوریج کر رہے ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی جان بحق ہو گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دانش صدیقی افغان شہر قندھار کے شورش زدہ علاقہ اسپین بولدک میں تصاویر لے رہے تھے، جبکہ یہاں طالبان اور سیکورٹی فورسز میں جھڑپ چل رہی ہے۔

دانش صدیقی کا شمار دنیا کے بہترین فوٹو جرنسلٹوں میں ہوتا تھا اور وہ فی الحال بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے لئے اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے افغانستان میں جاری تشدد کو کور کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر طالبان کا کنٹرول قائم ہوتا نظر آ رہا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں شدید جنگ کا دور جاری ہے۔ ایسے حالات میں دنیا بھر کے صحافی یہاں موجود ہیں اور اس جنگ کو کور کر رہے ہیں۔

دانش صدیقی کو میانمار میں روہنگیا بحران پر بہترین کوریج کے لئے پلیتزر ایوارڈ سے نوازا جا چکا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریر کا آغاز ایک ٹی وی جرنلسٹ کے طور پر کیا تھا، تاہم بعد میں وہ فوٹو جرنلسٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔

حال ہی میں دہلی میں ہونے والے تشدد، کورونا وائرس کے بحران، لاک ڈاؤن اور آکسیجن بحران پر بھی دانش صدیقی کی کھینچی گئی تصاویر نے سرخیاں بٹوری تھی۔ دانش صدیقی کی ان تصاویر میں ملک کے الگ الگ حصوں کا درد نمایاں ہوا تھا۔