• 425
    Shares

ایک طرف طالبان نے افغانستان میں حکومت سازی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں، اور دوسری طرف ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ افغان سیکورٹی فورسز نے تین اضلاع کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔ دراصل افغان نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں عبدالحامد دادگر نے طالبان کے قبضے والے اندراب بغلان کے تین اضلاع کو واپس چھین لیا ہے۔ حالانکہ اس بارے میں طالبان کی جانب سے ابھی کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں کشیدہ حالات کے درمیان وہاں کی کچھ جانباز عوام نے طالبان کے خلاف آواز بلند کر دی ہے اور اس سے متعلق رپورٹس میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے الگ الگ حصوں میں سڑکوں پر عوام نے طالبان کی مخالفت میں آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔ افغانستان کے پنج شیر علاقوں میں طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے سابق فوجیوں نے محاذ سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان سبھی کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں جو کہ طالبانیوں کو شکست دے چکے احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں۔ حالانکہ انھیں طالبان کے خلاف کتنی کامیابی ملے گی، اس سلسلے میں آنے والے وقت میں ہی پتہ چل پائے گا۔

 

دوسری طرف کچھ خواتین نے بھی طالبان کے خلاف علم بلند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر اور پرائیویٹ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین نے جمعہ کو طالبان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خواتین نے کام کرنے کی آزادی کا مطالبہ کیا اور پھر سے دفتر کھولے جانے کی اپیل کی۔ کچھ خبروں میں تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خواتین کے ایک گروپ نے طالبان کے خلاف جنگ کے لیے بندوقیں اٹھا لی ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔