• 425
    Shares

امریکی تاریخ میں افغانستان کی جنگ نہ صرف سب سے طویل بلکہ سب سے مہنگی بھی ثابت ہوئی ہے۔

امریکہ کی یہ جنگ رواں سال 30 اگست کو کابل میں آخری امریکی فوجیوں کے انخلا سے ختم ہوئی۔ براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پراجیکٹ کے مطابق اس پر امریکی خزانے کے اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔

اب افغانستان پر طالبان کے قبضے اور امریکی فوجیوں کی جانب سے افراتفری میں انخلا کو کچھ تجزیہ کار اس جنگ کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔

مگر جہاں بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک ’ناکام جنگ‘ ہو سکتی ہے، وہیں کچھ افراد کے لیے اس دوران ‘زبردست منافع کا موقع’ پیدا ہوا۔

کاسٹ آف وار کے مطابق سنہ 2001 سے 2021 کے درمیان امریکہ نے جتنے پیسے اس جنگ پر خرچ کیے، اس میں سے نصف رقم کی ادائیگی افغانستان میں امریکی محکمہ دفاع کے مختلف آپریشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی۔
؟

ان میں سے بھی بہت بڑا حصہ اُن نجی کمپنیوں کی خدمات کے لیے ادا کیا گیا جنھوں نے افغانستان میں امریکی آپریشنز کو سہارا دیا۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی پروفیسر لنڈا بلمز کہتی ہیں کہ اس جنگ میں امریکی افواج کے اپنے فوجی اور وسائل بہت کم تھے۔ اکثر وسائل دفاعی کنٹریکٹرز نے فراہم کیے تھے۔ ‘مجموعی طور پر امریکی فوجیوں کے مقابلے کنٹریکٹرز کے فوجیوں کی تعداد دگنی تھی۔’
بلمز نے بتایا کہ سیاسی طور پر ان امریکی فوجیوں کی حد مقرر کی گئی تھی جو افغانستان میں تعینات کیے جانے تھے۔ کنٹریکٹرز کی تعداد اسی بنیاد پر طے کی جاتی تھی۔

‘بہت زیادہ کام درکار تھا۔ اس کا مطلب کنٹریکٹرز (کے فوجی) طیاروں کو ایندھن فراہم کرتے تھے، ٹرک چلاتے تھے، کھانا بناتے تھے، صفائی کرتے تھے، ہیلی کاپٹر اڑاتے تھے اور ہر قسم کے سامان کی منتقلی کرتے تھے۔ انھوں نے فوجی اڈے، ایئرپورٹ، ایئرسٹرپ وغیرہ تعمیر کیے۔’

وہ پانچ کمپنیاں جن کے نام سب سے زیادہ رسیدیں بنائی گئیں
افغانستان میں سہولیات کی فراہمی کے لیے امریکہ اور دیگر ممالک کی سو سے زیادہ کمپنیوں کو پینٹاگون کی طرف سے ٹھیکے دیے گئے۔ ان میں سے کچھ کمپنیوں نے ان ٹھیکوں سے اربوں ڈالر کمائے۔

کون سی کمپنیوں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، اس حوالے سے سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہے۔

مگر باسٹن یونیورسٹی میں کاسٹ آف وار پراجیکٹ کا حصہ ’20 سالہ جنگ’ منصوبے کی ڈائریکٹر پروفیسر ہیدی پیلٹر نے اپنے غیر شائع تخمینے بی بی سی کو فراہم کیے ہیں۔

یہ معلومات امریکی حکومت کی ویب سائٹ یو ایس اے سپینڈنگ ڈاٹ کام سے حاصل کی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ کو امریکہ میں 2008 کے مالی بحران کے بعد تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں امریکی حکومت کے اخراجات سے متعلق معلومات دی جاتی ہے۔

پیلٹر کا کہنا ہے کہ ‘یہ اعداد و شمار 2008 سے 2021 کے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ ٹھیکے 2008 سے پہلے بھی دیے گئے ہوں گے۔ اگر ہمارے پاس 2001 (سے 2008) کی معلومات بھی ہوں تو اصل تخمینہ اس سے زیادہ ہوسکتا ہے۔’
ان اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں سرِفہرست تین امریکی کمپنیاں ڈینکارپ، فلور اور کیلوگ براؤن اینڈ روٹ (کے بی آر) تھیں جنھیں امریکہ کی حکومت نے سب سے بڑے ٹھیکے دیے۔

ان کمپنیوں کو لاجسٹکس اوگمینٹیشن پروگرام فار سویلین پرسونل (ایل او جی سی اے پی) کے تحت ٹھیکے دیے گئے۔ اس کے علاوہ انھیں معمولی نوعیت کے ٹھیکے بھی دیے جاتے تھے۔

پیلٹر نے کہا ہے کہ ‘عام طور پر ایل او جی سی اے پی کے ٹھیکے ایک سال سے زیادہ عرصے کے لیے دیے جاتے ہیں تاکہ مختلف سروسز حاصل کی جاسکیں جیسے لاجسٹکس، مینجمنٹ، ٹرانسپورٹ، سپورٹ، سامان کی مرمت، طیارے وغیرہ۔’

امریکی کمپنی ڈینکارپ سے افغانستان میں مختلف سروز حاصل کی گئیں جن میں ملک کی نیشنل پولیس اور انسداد منشیات کی فورسز کو سامان کی فراہمی اور تربیت شامل تھے۔ یہ کمپنی سابق صدر حامد کرزئی کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز کی ٹیم بھی دیتی تھی۔

ڈینکارپ کو حال ہی میں ایک دوسری امریکی کمپنی امینٹم نے خرید لیا ہے۔ پیلٹر کے مطابق ڈینکارپ کو ایل او جی سی اے پی کے ٹھیکوں کی مد میں 7.5 بلین ڈالر ملے اور مجموعی طور پر انھیں 14.4 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔

بی بی سی کی درخواست پر کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ‘سنہ 2002 میں ڈینکارپ انٹرنیشنل افغانستان میں ہماری حکومت اور اتحادیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔’

انھوں نے مزید کہا کہ نجی کمپنی ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ٹھیکوں سے متعلق معلومات جاری نہیں کرتے۔

ٹیکساس میں قائم کمپنی فلور کو جنوبی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے تعمیر کرنے کے ٹھیکے دیے گئے تھے۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ملک میں 56 اڈے آپریٹ کرتے تھے، ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے اور ایک دن میں ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھے۔

پیلٹر کے مطابق مجموعی طور پر فلور کارپوریشن کو افغانستان میں 13.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے جن میں سے 12.6 بلین ایل او جی سی اے پی کے ٹھیکے تھے۔

بی بی سی نے فلور کارپوریشن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ افغانستان میں جنگ کے دوران وہ کن کاروباری سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
دوسری طرف امریکی کمپنی کے بی آر کو امریکی فوج کی حمایت کے لیے انجینیئرنگ اور لاجسٹکس کا کام سونپا گیا تھا۔ انھیں رہائش، کھانے اور بنیادی ضروریات کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

افغانستان میں متعدد ہوائی اڈوں کے ذریعے نیٹو افواج فضائی آپریشنز کرتی تھیں۔ زمین پر ان کی معاونت کے لیے کے بی آر کو ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان میں مختلف سروسز شامل ہیں جیسے رن وے اور طیاروں کی سروس، ہوائی اڈوں کی مینجمنٹ اور ایروناٹیکل (فضائی) مواصلات۔

پیلٹر کے اعداد و شمار کے مطابق کے بی آر کو پینٹاگون سے قریب 3.6 بلین ڈالر مالیت کے ٹھیکے ملے۔

کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘کے بی آر نے سنہ 2002 سے 2010 تک افغانستان میں امریکی مسلح افواج کے لیے خدمات سرانجام دیں۔ ہمیں دستمبر 2001 میں ایل او جی سی اے پی کا ٹھیکہ ملا تھا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘اسی پروگرام کے تحت ہم نے امریکی فوج کے لیے 82 فوجی اڈوں پر سہولیات فراہم کیں جیسے کھانا، لانڈری، بجلی، صفائی اور مرمت۔ جولائی 2009 میں فوج نے کام میں تسلسل کے ٹھیکے ڈینکارپ اور فلور کو دیے جنھوں نے مشترکہ طور پر وہ سہولیات فراہم کیں جو کے بی آر فراہم کر رہا تھا۔ کے بی آر کی سروسز ستمبر 2010 میں ختم ہوگئی تھیں۔’

چوتھی کمپنی جسے سب سے بڑے ٹھیکے ملے وہ ریتھیون تھی۔ یہ امریکہ میں بڑی فضائی اور دفاعی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسے افغانستان میں سہولیات کی فراہمی کے لیے 2.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔

اسے حال ہی میں افغان ایئرفورس کی ترتیب کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جس کے لیے سنہ 2020 میں اس نے 145 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ورجینیا میں قائم سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی کمپنی ایگس ایل ایل سی افغانستان میں سب سے زیادہ پیسے کمانے والی پانچویں سب سے بڑی کمپنی تھی۔ اسے امریکی حکومت سے 1.2 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے تھے۔

اسے کابل میں امریکی سفارتخانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
بی بی سی نے اس کمپنی سے افغانستان میں سرگرمیوں سے متعلق سوالات کے لیے رابطہ کیا مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

دفاعی کمپنیوں کے بارے میں کیا معلومات ہے؟
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں جنگ کے دوران سب سے زیادہ مالی فائدہ دفاعی کمپنیوں کو ہوا، جیسے بوئنگ، ریتھیون، لاک ہیڈ مارٹن، جنرل ڈائنیمکس اور نارتھ روپ گرومین۔

لنڈا بلمز کہتی ہیں کہ ‘انھوں نے جنگ سے بہت زیادہ پیسے کمائے ہیں۔’

تاہم یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ انھوں نے اس دوران کل کتنے پیسے وصول کیے کیونکہ ان کے کنٹریکٹ افغانستان میں آپریشنز سے براہ راست تعلق نہیں رکھتے تھے۔

پیلٹر کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کو امریکہ کے لیے چیزیں بنانے کے کنٹریکٹ دیے گئے جنھیں افغانستان میں استعمال کیا گیا۔ انھیں افغانستان میں اخراجات میں شامل نہیں کیا گیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔