اعظم خان کی 27 مہینے بعد جیل سے رہائی، اکھلیش نے کہا-جھوٹ کے لمحے ہوتے ہیں، صدیاں نہیں!‘

لکھنؤ: سپریم کورٹ سے گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست منظور ہونے کے ایک روز بعد اعظم خان 27 مہینے کے بعد آخرکار جیل سے رہا ہو گئے ہیں۔ اعظم خان کو لینے ان کے بیٹے عبداللہ اعظم اور شیو پال یادو سیتا پور جیل پہنچے تھے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست منظور کی تھی، تاہم اعظم کی رہائی کا پروانہ شام 5.30 بجے تک جیل نہیں پہنچ سکا تھا، لہذا انہیں آج رہا کیا گیا۔

اعظم خان 2020 سے جیل میں تھے۔ یوپی پولیس نے پچھلے کچھ سالوں میں اس کے خلاف 88 مقدمات درج کیے تھے اور جمعرات کو سپریم کورٹ نے انہیں آخری اور 88ویں کیس میں عبوری ضمانت دی تھی۔

اعظم خان کے جیل سے رہا ہونے کے بعد شیو پال یادو نے کہا کہ یہ انصاف کی جیت ہے، اعظم خان کی جیت ہے۔ ہم سماجوادی ہیں، ہمیشہ نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) سے سیکھا کہ خوشی اور غم میں ساتھ رہنا ہے۔ شیو پال یادو نے کہا، وہ رام پور نہیں جائیں گے۔ وہ لکھنؤ جائیں گے۔ انہوں نے آج اعظم خان سے بات کی ہے۔

اعظم خان کی رہائی پر اکھلیش یادو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ایس پی کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے اعظم خان جی کی ضمانت پر رہائی پر ان کا دلی خیرمقدم ہے۔ ضمانت کے اس فیصلے سے سپریم کورٹ نے انصاف کے نئے معیارات دیے ہیں، یقین ہے کہ وہ باقی تمام جھوٹے معاملوں-مقدمات سے بری ہوں گے۔ جھوٹ کے لمحات ہوتے ہیں صدیاں نہیں!‘‘

2017 سے اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد اعظم خان پر سختی ہوئی تھی۔ 2019 میں رامپور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد ان کے خلاف 87 مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے بعد فروری 2020 میں انہیں سیتاپور جیل بھیج دیا گیا۔

طویل قانونی جنگ کے بعد اعظم خان کو 86 مقدمات میں ضمانت مل گئی لیکن اینمی پراپرٹی (دشمن جائیداد) سے متعلق ایک کیس میں عدالت کا فیصلہ آنا باقی تھا۔ گزشتہ سال 4 دسمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اس کے 4 ماہ بعد اعظم خان نے عبوری ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ اعظم نے الزام لگایا تھا کہ یوپی حکومت سیاسی انتقام کی وجہ سے جان بوجھ کر ان کی ضمانت میں تاخیر کرا رہی ہے۔ خیال رہے کہ اعظم خان نے 2022 کا ریاستی الیکشن جیل سے لڑا اور رامپور سیٹ سے ایک مرتبہ پھر فتحیاب ہوئے۔