اعظم خان کی طبیعت ناساز، سانس لینے میں دقت کے بعد داخل اسپتال

156

لکھنؤ:سماجوادی پارٹی کے سرکردہ لیڈر اور رکن اسمبلی اعظم خان کو سانس لینے میں دقت کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں بدھ کی دیر رات سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی اور طبیعت کی ناسازی کو دیکھتے ہوئے انھیں لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جمعرات کی صبح میدانتا اسپتال کے ڈائریکٹر نے ان کی طبیعت سے متعلق ایک پریس ریلیز جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ وہ گزشتہ روز یعنی بدھ کی دیر رات علاج کے لیے اسپتال میں داخل ہوئے۔ پریس ریلیز کے مطابق 74 سالہ سماجوادی پارٹی لیڈر محمد اعظم خان کو پھیپھڑوں کے نمونیا اور سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے میدانتا اسپتال لکھنؤ کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مورخہ 4 اگست کو ضروری ٹیسٹس کے بعد اعظم خان کو کریٹیکل کیئر ٹیم کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت سماجوادی پارٹی لیڈر کی طبیعت مستحکم اور کنٹرول میں ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی وہ صحت یاب ہو جائیں گے۔ اسپتال کی کریٹیکل کیئر ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر دلیپ دوبے اور ان کی ٹیم بہتر علاج کے لیے لگاتار کوشاں ہیں۔

واضح رہے کہ اعظم خان گزشتہ 20 مئی کو سیتاپور جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ سیتاپور جیل میں بھی اعظم خان کی طبیعت دو مرتبہ خراب ہوئی تھی اور تب بھی انھیں لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں ہی داخل کرایا گیا تھا۔ گزشتہ سال مئی میں اعظم خان کورونا سے بھی متاثر ہو گئے تھے۔