لکھنو:سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ اعظم خان کی طبیعت لگاتار ناساز چل رہی ہے۔ لکھنؤ واقع میدانتا اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے اور ان کی کورونا رپورٹ نگیٹو آ گئی ہے، لیکن جسمانی طور پر وہ انتہائی کمزور ہو گئے ہیں اور کئی طرح کے مرض میں مبتلا بتائے جا رہے ہیں۔ اعظم خان کی ناگفتہ بہ حالت کے بارے میں آج ان کی بیوی تازئین فاطمہ نے میڈیا کے سامنے تفصیل بتائی۔

تازئین فاطمہ نے نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ’’اعظم خان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں رہنے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو گئے ہیں۔ ان کے منھ میں السر بھی ہو گیا ہے جس سے وہ کھانا نہیں کھا پا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اعظم خان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بھی ہے جس کی وجہ سے کمزوری بہت بڑھ گئی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اعظم خان گزشتہ مہینے کورونا سے متاثر ہو گئے تھے اور پھر ٹھیک ہونے کے بعد پوسٹ کووڈ فائبروسس، کیویٹی اور چیسٹ انفیکشن میں مبتلا ہو گئے۔ 2 مئی کو انتظامیہ نے بہتر علاج کے لیے اعظم خان کو لکھنؤ واقع کنگ جارج میڈیکل کالج لے جانے کا مشورہ دیا، لیکن انھوں نے سیتا پور جیل سے باہر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ حالانکہ طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد 9 مئی کو وہ لکھنؤ جانے کے لیے رضامند ہو گئے تھے۔