اس مسلم ملک میں شادی سے قبل جسمانی رشتہ قائم کرناجرم قرار,’لیو-اِن رلیشن‘ پرپابندی عائد ٗ

908

جکارتہ :(ایجنسیز)دنیا کے بیشتر ممالک نے ’لیو-اِن رلیشن‘ کو قانونی درجہ دے دیا ہے اور شادی سے قبل جسمانی رشتہ قائم کرنے کو بھی کئی ممالک میں برا تصور نہیں کیا جاتا۔ لیکن انڈونیشیا کی پارلیمنٹ میں ایک ایسے قانون کو منظوری مل گئی ہے جس میں شادی سے قبل ہم بستری پر پابندی لگ گئی ہے۔ ساتھ ہی ’لیو-اِن رلیشن‘ کو بھی جرم کے درجہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے ایک ایسے قانون کو پاس کر دیا ہے جو شادی سے قبل ہم بستری اور لیو-اِن رلیشن کو مجرمانہ عمل قرار دیتا ہے۔ حکومت کے اس قدم کو ناقدین نے ملک کی آزادی کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا ہے۔ حقوق انسانی سے متعلق کئی گروپوں نے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ عوام کی آزادی پر قدغن ہے اور شدت پسندی کی طرف بڑھایا گیا ایک قدم ثابت ہوگا۔ حالانکہ شدید مخالفتوں کے باوجود انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے نئے قانون کو منظوری دے دی۔

انڈونیشیا کے وزیر برائے قانون و حقوق انسانی یاسونا لاؤلی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اہم ایشوز اور الگ الگ مشوروں کو شامل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے، جن پر بحث ہوئی تھی۔ حالانکہ یہ ہمارے لیے تعزیرات ترمیم پر ایک تاریخی فیصلہ لینے اور سرمایہ دارانہ مجرمانہ تعزیرات کو پیچھے چھوڑنے کا وقت ہے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ وزارت قانون و حقوق انسانی کے مجرمانہ کوڈ بل نشریہ ٹیم کے ترجمان البرٹ ایریز نے ووٹنگ سے قبل ترامیم کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ قانون ’شادی‘ کی حفاظت کرے گا۔ بہرحال، نئے قانون سے متعلق وزارت قانون و حقوق انسانی کا کہنا ہے کہ شادی سے قبل جسمانی رشتہ اور شادی کے بعد کسی سے ناجائز رشتہ کو صرف ایک شوہر یا بیوی، والدین یا بچے ہی رپورٹ کر سکتے ہیں۔ حالانکہ حقوق انسانی گروپ نے اس قانون کو ’اخلاقیات کی نگرانی‘ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

نئے قانون سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈونیشیا کے ڈائریکٹر عثمان حامد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم پیچھے جا رہے ہیں۔ استحصال والے قوانین کو ختم کر دیا جانا چاہیے تھا، لیکن بل دکھاتا ہے کہ بیرون ممالک میں دانشوروں کے دلائل درست ہیں، ہماری جمہوریت میں بلامبالغہ گراوٹ آ رہی ہے۔‘‘