علیم خان فلکی،صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد7386340883

آج منصف کھولا، ایک ہی صفحے پر دو خبریں، ایک ساتھ،ایک اوپر ایک نیچے، اوپر شادی کی اور نیچے قحبہ گری یعنی پراسٹیٹیوشن کی، دونوں کارنامے مسلمانوں کے۔ دونوں ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔ایک خبر امیروں کے فکری افلاس کی ، دوسری خبر غریبوں کے مالی افلاس کی.ایک خبر حلال خرچ کرنے کے شعور کے فقدان کی، ایک خبر حلال کمائی کے شعور کے فقدان کی۔

ایک میں علما و مشائخین دانستہ طور پر شامل تو دوسری میں نادانستہ طور پر، دانستہ اس طرح سے کہ”خوشی کے لین دین” کا یہ طبقہ جواز فراہم کرتا ہے، نادانستہ طور پر اس طرح کہ یہی طبقہ ناداروں کے دلوں میں لالچ اور ہوس پیدا ہونے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ایک خبر دولت لٹا کر سماج میں عزت یا Statusباقی رکھنے والوں کی، دوسری خبر دولت لٹا کر جسمانی لذّت حاصل کرنے والوں کی.ایک اس اسٹیج کی خبر جہاں دولتمند بے جا خرچ کرکے خوشیوں کے ماڈل تعمیر کرتے ہیں۔ دوسری خبران باپاک بستروں کی جہاں غربت و افلاس کے ماڈل تعمیر ہوتے ہیں.ایک وہ محفل جس کے ذریعے اپنی اپنی استطاعت کی بنیاد پر نسانوں کی اعلیِ، متوسط اور غریب کی شناخت قائم ہوتی ہے۔دوسرے وہ اڈّے جہاں جسم فروشوں، دلالوں اور زانیوں کی شناخت قائم ہوتی ہے۔

ایک ان خوش نصیب بیٹیوں کی خبر جن کے امیر باپ شریف دامادوں کو خریدتے ہیں۔ ایک ان بدنصیب بیٹیوں کی خبر جن کو امیر کسٹمرز ایک رات کے لئے خریدتے ہیں۔دونوں خبروں میں قدرِ مشترک سنّت و شریعت سے انحراف۔ لیکن پہلی خبر میں شریعت سے انحراف کی تشہیر اور تمام شرفا و جہلا کی شان سے شرکت، فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی اور سوشیل میڈیا پر تشہیر۔ دوسری خبر میں بھی وہی شرفا و جہلا کی شرکت لیکن زمانے سے چھپ کر۔ایک خبر ان مصلحین، مرشدین، علمائے دین، مفکرین ، دانشوران، سماجی جہدکاران ،قائدین ،اور اخبار مالکان کی جوشادیوں کو آسان کرنے پر جوشیلی تقریریں فرماتے ہیں، لیکن اپنے گھر کی شادی میں بصد شوق رسول اللہ کی سنّتِ نکاح کو منہ چڑاتے ہوئے دھوم دھام سے مہارانی جودھا بائی کی ہرسنّت کو انجام دیتے ہیں۔وہی سہرے، پھولوں کے ہار، بدّیاں، ہاتھ میں تلوار، خنجر ، سروں پر شملے، تاج، دلہن کے ایک رات کے قیمتی جوڑے، بیوٹی پارلر، مسجد میں نکاح اور شادی خانے میں لاکھوں کی ڈِشیں، ناچ گانے، قوالیاں،۔ دوسری خبر انہی منافقین کے قول و عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ان تنائج کی جس میں غریب صرف فحاشی ہی نہیں بلکہ چوری، دھوکہ، رشوت خوری، سود ، گانجہ، شراب، لوٹ اور قتل میں ملوّث ہوتے جارہے ہیں۔

ایک معذرت: اخبار میں اتفاق سے جو تصویر ہماری نظر سے گزری، اور اتفاق سے ہمارا موضوع بن گئی، وہ تصویر نشانِ ملامت نہیں ہے۔اور نہ جن کی تصویر ہے ان پر کسی قسم کی تنقید ہمارا مقصد ہے۔ وہ یقیناً شہر کے باعزت، باوقار زعمائے شہر میں سے ہوں گے۔ لیکن چونکہ آئے دن تمام زعمائے شہر کے گھروں کی شادیوں کی تصویریں مسلسل شائع ہوتی آرہی ہیں، چاہے وہ اہلِ سیاست ہوں، اہلِ مذہب ہوں، بڑی بڑی جماعتوں، مسلکوں یا سلسلسوں کے رکھوالے ہوں یا این آر آئیز ہوں ، اس اخباری تصویر کو آپ ان تمام گھرانوں کی شادیوں کی تصویر سمجھیں جو ہر روز ہر بڑے شادی خانے میں منعقد ہورہی ہیں۔

دوسری سنّتوں پر سختی سے عمل بلکہ جنگ آرائی لیکن سنّتِ نکاح سے سختی سے انحراف ہی در اصل آج کے مسلمان معاشرے کی اخلاقی اور مالی تباہی کا اصل سبب ہے۔ منگنی اور شادی کے دن کے کھانوں، خوشی سے جہیز اور جوڑے کی رقم کا لین دین، ادھار مہر اور اس سے سو گنا زیادہ خرچ کی شادی، پہلی زچگی کا خرچ ، اور سب سے اہم یہ کہ ایسی شادیوں میں شرکت کرنا اور کھانا، جب تک علما اور مشائخین ان چیزوں کے بارے میں واضح طور پر جائز یا ناجائز ، حلال یا حرام کا فتوی دےکر کم سے کم اپنے طلبا، معتقدین اور مریدین کو ان احکامات کا پابند نہیں کریں گے، مسلمان معاشرے کی اخلاقی، سیاسی، سماجی اور معاشی تباہی کو روکنا ناممکن ہے۔ ایک طرف اِن رسموں پر تنقید کرنا دوسری طرف تعلقات کی بِنا ایسی شادیوں میں شرکت کرنا آج کی سب سے بڑی منافقت ہے۔