اس جانور میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی

چین میں سمگل کیے جانے والے پینگولیئن میں کووڈ۔19 نما وائرس کی تصدیق ہوئی جو کہ پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ایک بین الاقوامی ٹیم نے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کی منڈی میں ان کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

پینگولیئن ان دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ایک ہے جن کو زیادہ تر غیر قانونی طریقے سے سمگل کیا جاتا ہے اور انھیں روایتی دوائیوں اور خوراک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔چمگادڑوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اصل میں ان سے یہ بیماری شروع ہوئی تھی۔جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جینیاتی ڈیٹا بتاتا ہے کہ ’ان جانوروں کو چھونے اور انھیں لانے لیجانے کے عمل میں انتہائی اختیاط کی ضرورت اور اس لیے جانوروں کی منڈی میں ان کی خرید و فروخت سخت ممنوع قرار دے دینی چاہیئے۔‘

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلوں میں پینگولیئن پر مزید تحقیق ہونی چاہیئے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ان کے کردار اور مستقبل میں انسانوں میں اس کی ٹرانسمیشن کے متعلق جانا جا سکے۔

چیونٹیاں کھانے والا کھپروں یا چھلکوں والا یہ میمل دنیا میں سب سے زیادہ سمگل کیا جانے والا جانور ہے اور معدومیت کا شکار ہے۔ اس کے کھپروں کی ایشیا میں بڑی طلب ہے اور انھیں روایتی چینی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ پینگولیئن کے گوشت کو ایک نفیس غذا سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اہم خبریں: دنیا کے 101 ممالک کورونا وائرس سے متاثر

پینگولین اور دیگر جنگلی حیات جن میں کئی طرح کی چمگادڑیں بھی شامل ہیں اکثر گیلے بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں ( ایسے بازار جہاں زندہ جانوروں کو پانی میں رکھا جاتا ہے) جس سے ایک سے دوسرے جانور میں وائرس پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ تو ایسے بازاروں میں ہی جانوروں اور انسانوں میں وائرس پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me