کلکتہ 19جولائی (یواین آئی) مغربی بنگال کے بانکوڑہ ضلع میں ایک حیرت انگیز واقع میں سنٹرل اسکول کے پرنسپل اور ٹیچر سمیت 8افراد کو بچوں کو اسمگلنگ کے معاملے میںگرفتار کیا گیا ہے ۔کل سنٹرل اسکول کے پرنسپل کو اسکول کی عمارت کے سامنے دوبچوں کو اسمگلنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھ گرفتار کیا گیا ہے۔تاہم پرنسپل فرار ہونے میں کامیاب مگر تھوڑی دیر میں پولس نے پرنسپل کو گرفتار کرلیا۔پرنسپل سے پوچھ تاچھ کی بنیاد پر اس جرم میں شامل تین خواتین سمیت 8افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پانچ بچوں کو باز یاب کرالیا گیا ہے۔ بانکوڑہ ضلع عدالت نے پرنسپل سمیت تین افراد کو پانچ دن اور دیگر پانچ افراد کو 14 دن کے لئے پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔


گرفتار پرنسپل کا نام کمل کمار راجوریہ ہے۔اسی اسکول کے ایک اور استاد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے مبینہ طور پر گرفتار پرنسپل اور گرفتار استاذ مختلف جگہوں سے بچوں کو خریدنے اور انہیں بڑی رقم میں راجستھان سمیت مختلف مقامات پر فروخت کرنے میں ملوث تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق جواہر نوودیالیہ اسکول کے پرنسپل ، کمل کمار راجوریہ اتوار کو بانکوڑہ کے علاقے پتپتھر میں دو بچوں کو زبردستی ماروتی وین میں سوارکرنے کی کوشش کرتے ہوئے جب مقامی لوگوں نے دیکھاتو ہنگامہ شروع ہوگیا اور موقع پر موجود لوگوں نے ماروتی وین کو گھیر لیا ۔مگر پرنسپل کمل کمار راجوریہ موقع سے فرار ہوگئے۔ ماروتی وین سے چار بچوں سمیت دو خواتین کو بازیاب کرایا گیا۔ بعد میں پرنسپل کمل کمار راجوریہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔


پوچھ تاچھ میں پرنسپل نے اقرار کیا ہے کہ اس نے مختلف علاقوں سے ایجنٹ کی مدد سے بچوں کو خریدکر اسمگلنگ کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے۔اس کے لئے لاکھوں روپے بچوں کی ماؤں کو بھی دیئے گئے۔ ایک ہفتہ پہلے پولس کو خیر ملی تھی کہ پرنسپل کمل کمار نےکڈا روڈ کے علاقے سے نو ماہ کے بچے کو لے کر آیا ہے اور اسے راجوریہ جوہور نبوڈے اسکول کی سشما شرما نامی بے اولاد ٹیچر کے ہاتھوں بیچ دیا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ حال ہی میں دو بچوں کو فروخت کرنے کے غرض سے پرنسپل کے کوارٹرز میں لایا گیا تھا۔ پولیس نے اب تک کل پانچ بچوں کو بازیاب کرایا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق سنٹرل اسکول کے پرنسپل ، کمل کمار راجوریہ نے بے اولاد جوڑے کو بچے فراہم کرنے کےلئے ایک نیٹ ورک بنارکھاہے۔پولس نے بازیاب ہونے والے پانچوں بچوں کا طبی معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے۔اس بات کی جانچ کی جارہی ہے کہ اس ریکٹ میں کو ن کون لوگ ملوث ہیں ۔ادھرسنٹرل اسکول کے ٹیچر س اور پرنسپل کے خلاف عوامی طور پر سخت ناراضگی ہے ۔