• 425
    Shares

بنگورو:(ایجنسی)ایک طرف ہندوستان کی کئی ریاستوں میں کورونا انفیکشن کی کمی کو دیکھتے ہوئے کاروباری سرگرمیاں اور تعلیمی ادارے دھیرے دھیرے کھولنے کا اعلان کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف ان ریاستوں سے اچھی خبر نہیں آ رہی ہے جہاں اسکول کھل چکے ہیں۔ کرناٹک، پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں اب اسکولی بچوں پر کورونا کا قہر شروع ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کرناٹک کے بنگلورو شہر میں ہی ایک ہفتے میں 300 سے زائد بچے کورونا پازیٹو پائے گئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق بنگلورو سے متعلق جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس میں بتایا گیا ہے کہ 6 دنوں میں 300 سے زائد بچے کورونا کی زد میں آ چکے ہیں۔ بنگلورو جیسے بڑے شہر میں اسکولی بچوں کا اس تیزی سے کورونا انفیکشن کا شکار ہونا فکر انگیز ہے۔ بنگلورو انتظامیہ نے جانکاری دی ہے کہ 0 سے 9 سال کے تقریباً 127 اور 10 سے 19 سال کے تقریباً 174 بچے کووڈ پازیٹو پائے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 5 اگست سے 10 اگست تک کے ہیں۔

کرناٹک کے علاوہ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں بھی اسکولی بچے کورونا انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہماچل پردیش میں اسکول کھلنے کے بعد سے اب تک تقریباً 32 طلبا کووڈ کی زد میں آ چکے ہیں، اور پنجاب میں بھی 27 اسکولی بچے کورونا پازیٹو ہوئے ہیں۔ ہریانہ کے اسکولوں میں بھی کورونا کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔

اسکولی بچوں کے لگاتار کورونا انفیکشن کی زد میں آنے سے حکومتوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ اب ہماچل پردیش نے 22 اگست تک اسکول بند کرنے کی بات کہی ہے۔ پنجاب کی جانب سے بھی اسکولوں میں سختی بڑھانے کی تیاری ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ ہریانہ میں نویں سے بارہویں تک کے اسکول جولائی میں کھولے گئے تھے، جب کہ پنجاب نے اگست کے شروع میں اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ہریانہ نے بھی 2 اگست سے نویں سے بارہویں تک کے طلبا کو اسکول بلانا شروع کیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔