نئی دہلی : ۔ مودی حکومت میں پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ کرتے ہوئے فی لیٹر پٹرول کی قیمت 97 روپئے تک کردی ۔ جب کہ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت 54 ڈالر فی بیارل ہے اتنی کم قیمت میں فروخت ہونے والا پٹرول ہندوستان میں بھی کم قیمت میں فروخت کیا جانا چاہئے تھا لیکن ایک ماہر معاشیات حکمراں اور ایک چالاک حکمراں میں یہی فرق ہے ۔ تجزیہ نگاروں نے تبصرہ کرتے ہوئے انپڑھ حکمراں اور اسکالر حکمراں میں فرق واضح ہورہا ہے ۔ ہندوستانی عوام پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے بوجھ ڈالا جارہا ہے ۔ ہندوستان کی تیل کمپنیوں نے اس اضافہ کو اپنی ذمہ داری قرار نہیں دیا بلکہ حکومت نے پٹرول ڈیزل اور پکوان گیاس پر اضافی ڈیوٹی ٹیکس عائد کیا ہے ۔ نتیجہ میں پٹرول پمپ مالکین کو اضافی قیمتوں کے ساتھ فروخت کرنا پڑرہا ہے ۔ جب کہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں کم ہورہی ہیں اور اس کے فوائد ہندوستانی عوام کو پہونچنے چاہئے تھے ۔ پٹرول کو کم قیمت میں فروخت کرنے کے بجائے مودی حکومت نے اس میں تین گنا اضافہ کیا ہے ۔ منموہن سنگھ کی حکومت نے جب عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت فی بیارل 147 ڈالر تھی تو ہندوستان میں پٹرول کی قیمت کو محدود رکھتے ہوئے 67 روپئے فی لیٹر فروخت کیا گیا تاکہ ملک کی عوام کو مالیاتی طور پر پریشانی نہ ہو ۔ اس کے باوجود اس وقت کی اپوزیشن بی جے پی نے عوام کو گمراہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔ آج یہی بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار ہیں اس نے عوام پر بے تحاشہ مالیاتی بوجھ ڈال دیا ہے ۔ چند دن قبل بی جے پی کے ایم پی سبرامنیم سوامی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں کا تقابل کیا تھا اور کہا کہ تھا کہ پڑوسی ملک نیپال اور سری لنکا میں پٹرول کی قیمتیں کم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رام کے ہندوستان میں فی لیٹر پٹرول 97 روپئے اور سیتا کے نیپال میں 53 روپئے فی لیٹر اور راون کے لنکا میں 51 روپئے فی لیٹر مل رہا ہے ۔۔


اپنی رائے یہاں لکھیں