اسپین کے خلاف تاریخی فتح: مراکش کھلاڑیوں کا فلسطینی پرچم کے ساتھ جشن، بادشاہ کی فون پر مبارکباد

841

ہر ٹیم چاہتی ہے کہ فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلے کے فیصلہ کن میچ میں ان کا سٹار کھلاڑی پرفارم کرے۔ مراکش کو بھی یہی امید تھی کہ اشرف حکیمی سپین کو اپ سیٹ دینے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

منگل کی شب 120 منٹ گزرنے کے باوجود کوئی ٹیم گول نہیں کر سکی تھی۔ مراکش کی دو کامیاب پینلٹیوں اور سپین کی دو ناکام پینلٹیوں کے بعد فیصلہ کن پینلٹی اشراف حکیمی کو لگانا تھی اور وہ یقیناً کافی دباؤ میں تھے۔

وہ سپین میں پیدا ہوئے اور ریال میڈرڈ کے لیے رائٹ بیک پر کھیلتے تھے۔ ان کی زندگی قدرے مختلف رہی ہوتی اگر وہ اسی ملک کے لیے کھیلتے جہاں وہ پیدا ہوئے۔

مگر 24 سالہ اشرف نے سپین کے بجائے اس ملک کے لیے کھیلنے کا فیصلہ کیا جہاں سے ان کے والدین اور آباؤ و اجداد کا تعلق تھا۔ اب قوم کی پوری ذمہ داری ان کے جواں کندھوں پر تھی۔

انھیں معلوم تھا کہ اگر وہ اس اہم مرحلے پر گول کر دیں گے تو مراکش پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔

اشرف حکیمی آگے بڑھے اور ہسپانوی گول کیپر کو چکما دے کر گیند گول پوسٹ کے پار پہنچا دی۔

مراکش نے تین صفر کے کامیاب شوٹ آوٹ سے کامیابی حاصل کی اور اشرف حکیمی بھاگ کر شائقین میں سب کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے پاس پہنچے جنھوں نے ان کے گال پر بوسہ دیا۔ یہ تصویر گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

ماضی میں اشرف حکیمی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ ’میری والدہ گھروں کی صفائی کرتی تھیں اور میرے والد پھیری والے ہیں۔۔۔ میں آج ہر روز ان کے لیے محنت کرتا ہوں۔ انھوں نے میرے لیے کئی قربانیاں دیں۔‘

مراکش اب چوتھی افریقی اور پہلی عرب ٹیم ہے جس نے کوارٹر فائنل (یعنی آخری آٹھ ٹیموں) میں کوالیفائی کیا۔ اس سے قبل تین افریقی ممالک (1990 میں کیمرون، 2002 میں سنیگال اور 2010 میں گھانا) نے کوارٹر فائنلز میں کوالیفائی کیا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی ٹیم اس راؤنڈ سے آگے نہیں جا سکی تھی۔


میچ کے بعد مراکش کے مینیجر وليد الركراكی نے کہا کہ ’یہ بڑی کامیاب ہے اور کھلاڑی پُرجوش ہیں۔ انھوں نے عمدہ یقین کا مظاہرہ کیا۔‘

’ہمیں اس بے پناہ حمایت کا علم تھا جو ہمیں ملی اور گذشتہ رات کی پرفارمنس اسی سے متاثرہ تھی۔‘

یہ اس قدر بڑی کامیابی مانی گئی کہ ٹیم کے مینیجر کو مراکش کے بادشاہ نے میچ کے بعد فون کیا۔ ’کسی بھی مراکش شہری کے لیے یہ بڑی غیر معمولی بات ہے کہ آپ کو بادشاہ کا فون آئے۔ انھوں نے ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اور وہ ہمیں فون کر کے مشورے دیتے ہیں اور پوری جان لگانے کا کہتے ہیں۔‘

’ان کا ہمیشہ وہی پیغام ہوتا ہے۔ انھیں کھلاڑیوں پر فخر ہے اور اس کے نتیجے میں ہم بہتر سے بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

اشرف حکیمی کو تیسری پینلٹی سکور کر کے ہیرو بننے کا موقع شاید نہ مل پاتا اگر مراکش گول کیپر ياسين بونو نے دو پینلٹیاں نہ روکی ہوتیں یا عبدالحامد صابری اور حکیم زیاش نے کامیاب پینلٹیوں کے بعد ملک کو دو صفر کی برتری نہ دلائی ہوتی۔

جیت کا جشن فلسطینی پرچم کے ساتھ
تیسری کامیاب پینلٹی کے بعد سپین ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا اور مراکش کھلاڑیوں نے جیت کا بھرپور جشن منایا۔ چیلسی کے لیے کھیلنے والے زیاش اور کوچ کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا۔

مراکش کے فٹبالرز جیت کے موقع پر ایک پرچم کے ساتھ تصویر کے لیے جمع ہوئے۔ یہ ان کے اپنے ملک کا پرچم نہیں تھا، نہ ہی یہ الجزائر، تیونس یا لبنان کا پرچم تھا۔ ان تمام ملکوں کے شائقین عرب یکجہتی کے اظہار میں سٹیڈیم میں موجود تھے اور مراکش کی حمایت کر رہے تھے بلکہ یہ فلسطینی پرچم تھا۔

مراکش کے فینز نے سٹیڈیم کے باہر بھی فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور ٹی شرٹس پہنچ رکھی تھیں۔

سٹیڈیم کے اندر کے ماحول کے بارے میں سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مراکش فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا۔ انھوں نے اسی پرچم کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائی۔مراکش سٹرائیکر عبدالرزاق نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا۔

اگرچہ فلسطینی ٹیم خود ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر پائی مگر ان کا پرچم اور فلسطینی لوگوں سے اظہار یکجہتی بارہا ٹورنامنٹ کے دوران نظر آتی رہی۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)