• 425
    Shares

﴿ماتم نہ کر حسین کے نقش قدم پر چل
ایک کربلہ اور سہی ایک کربلہ کے بعد﴾

60ھجری اور 61ھجری کی بات ہے کہ ہر طرف تاریکی تھی اور اندھیرا تھا ، ظلمتوں کا راج تھا اور ظلالتوں کی حکومت، رات تھی اور وہ بھی طویل رات ، صبح کی امید تھی نہ اجالے کی آس ، ایک فرعون وقت (یزید) تھا ، جو اپنی پوری رعونت کے ساتھ انا ربکم الاعلی کا نعرہ بلند کررہا تھا ، دین مبین اسلام اس کے آہنی پنچوں میں جکڑا ہوا تھا ، انسانیت اور حریت سسک رہی تھی، شرافت بلک رہی تھی ، ایسے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نظر، علی رضی اللہ عنہ کا چشم و چراغ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دل کا چین حسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے دین خدا کو بچانے کے لئے اور انسانیت کی بقا کے لئے اپنے ساتھ ایک مختصر سے قافلہ کو لے کر جس میں بچے بھی تھے اور جوان بھی اور عورتیں بھی تھیں اور بوڑھے بھی اپنے جدامجد کے مدینہ کو الوداع کہا اور سوئے کربلا روانہ ہوئے ۔
یزید نے حسین ابن علی رضی اللہ عنہ سے بیعت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ،،مثلی لا یبایع مثلہ ،، مجھ جیسا شخص یزیدجیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ در حقیقت یہ صرف یزید کی یزیدیت سے حسین کا انکار بیعت نہ تھا بلکہ شیطان کی شیطانیت سے آدم کا انکار بیعت تھا ۔ نمرود کی نمرودیت سے ابراہیم علیہ السلام کا انکار بیعت تھا اور فرعون کی فرعونیت سے موسیؑ کا انکار بیعت تھا ۔کیونکہ حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں نمائندہ حق اور وارث انبیاء بن کر آئے تھے اور یزید تو باطل کا نمائندہ تھا جب حضرت حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا تو یزید نے کہا ،، اےحسین! اگر تم نے میری بیعت نہ کی تو تمہارے سر کو تن سے جدا کر کے تمہارے تمہارے گھر کو لوٹ لیا جائے گا، حضرت حسین نے مسکرا کر یہ آواز دی ،،ان کا دین محمد لم یستقم الا بقتلی ،فیاسیوف خذینی ،، اگر دین محمد ﷺ میرے قتل کے بغیر پائیدار نہیں رہ سکتا تو اے تلواروں! مجھ پر ٹوٹ پڑو ۔تو یزیدی لشکر نے ہزاروں کی تعداد میں حضرت حسینؓ کے کل 72 افراد کے لشکر کا محاصرہ کر لیا اور حسینی قافلہ پر کھانا پانی بند کر دیا جس سے حضرت حسینؓ کے ننھے بچے بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگے۔ اس کے باوجود حضرت حسینؓ کے اس انکار بیعت میں کس طرح تزلزل نہ آسکا۔ حضرت حسینؓ کی نگاہوں کے سامنے حضرت حسینؓ کے بیٹوں ، بھائیوں ، بھتیجوں، بھانجوں اور دوستوں کو شہید کر دیا گیا ۔مگر انکار بیعت بڑھتا گیا ۔یہاں تک کہ حضرت حسینؓ نے اپنا سر بھی راہ خدا میں دے دیا ۔مگر یزید فاسق وفاجر کی بیعت نہ کی ۔
یزید چند لمحوں کے لئے حضرت حسینؓ کا سر تن سے جدا کرکے نوک نیزہ پر بلند کرکے یہ سمجھ رہا تھا کہ جیت میری ہوچکی ہے ۔مگر حضرت حسین ؓ نے سر کٹا کر نوک نیزہ پر بلند ہوکر رہتی دنیا کو یہ بتا دیا کہ یہ یادرکھو! جیت مقصد کی ہوتی ہے ۔میرا مقصد یزید کی بیعت نہ کرکے دین خدا کو بچانا تھا لہذا میں سر کٹا کر بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بلند ہوگیا ۔مگر یزید میرا سر کاٹ کر بھی قیامت تک لئے سرنگوں اور ذلیل و رسوا ہوگیا ۔
یوں تو دنیا میں بہت سی جنگیں لڑیں گئی مگر جوں جوں دن گزرتے گئے فراموشی کے گردو غبار ان کی تاریخ کے اوراق پر پڑتے گئے اور لوگ ان جنگوں کو بھول گئے مگر میدان کربلا کی جنگ وہ واحد جنگ ہے جو چودہ سو برس سے انسانیت کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہے، اپنے ہتھیار اور فوج کی کثرت پر ناز کرنے والا یزید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شکست و ذلت کے سمندر میں غرق ہوگیا اور مسکراکے سر کٹانے والے حسین ؓقیامت تک کے لئے یزیدیت کے سروں کو کچل کر فاسق کے ایوانوں پر اپنی فتح وجیت کا پرچم لہرادیئے ۔
حضرت حسین ؓنے اپنا سر کٹا کر دنیا والوں کو بتادیا کہ دیکھو تم سے دنیا کی بڑی سے بڑی بھی طاقت ٹکرانے کے لئے آئے تو اسے دیکھ کر ڈر نہ جانا ،قوت کو دیکھ کر مرعوب نہ ہوجانا ، تلواروں کی چمک سے آنکھیں چکا چوند نہ ہونے پائیں، تیروں کی بارش سے گھبرا نہ جانا ،نیزوں کو دیکھ کر دہل نہ جانا اور فوج کی کثرت کو دیکھ کر پیچھے نہ ہٹ جانا، پہلے اپنے مسلک پر غور کرنا کہ راہ حق ہو کہ نہیں ۔اگر باطل پر ہوتو بچے کا بھی مقابلہ نہ کرنا وہ تمہیں پچھاڑ دے گا اور اگر حق پر ہوتو دنیا کی کتنی ہی بڑی طاقت کیوں نہ ہو ٹکرا جانا جیت تمہاری ہوگی کیونکہ تمہاری طاقت حق کی طاقت ہے،تمہاری طاقت علم وعمل کی طاقت ہے ، تمہاری طاقت سچائی اور ایمانداری کی طاقت ہے ۔

*بارگاہ خداوندی میں دعا ہے رب ذوالجلال ہم سب کو دین مبین کی اشاعت کی اور اس پر استقامت کی توفیق عطا فرمائے*

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔