اسمرتی ایرانی کی بیٹی نے فرضی دستاویز کی بنیاد پر ’بار لائسنس‘ حاصل کیا، ’مرکزی وزیر کو کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ

514

نئی دہلی: رکن پارلیمنٹ، جنرل سکریٹری اور انچارج کمیونیکیشن، اے آئی سی سی جے رام رمیش، چیئرمین، میڈیا اینڈ پبلسٹی، اے آئی سی سی پون کھیڑا اور صدر، آل انڈیا مہیلا کانگریس نیتا ڈیسوزا کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کے خاندان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

گوا میں ان کی بیٹی کے ذریعہ چلائے جانے والے ایک ریستوراں پر شراب پیش کرنے کے لئے فرضی لائسنس حاصل کرنے کا الزام ہے اور یہ ‘ذرائع’ یا سیاسی انتقام کے لئے ایجنسیوں کی طرف سے عائد الزامات نہیں، بلکہ ان کا انکشاف آر ٹی آئی کے ذریعے ہوا ہے۔ جس کے مطابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کی بیٹی جوئش ایرانی نے اپنے ‘سلی سولز کیفے اینڈ بار’ کے لئے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر ‘بار لائسنس’ جاری کرایا۔


بیان میں معلومات دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لائسنس کی تجدید کے لیے جس انتھونی ڈی گاما کے نام سے 22 جون 2022 کو درخواست دی تھی، اس کی گزشتہ سال مئی میں ہی موت ہو گئی تھی۔ انتھونی کے آدھار کارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممبئی کے ولے پارلے کا رہنے والا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت درخواست دینے والے وکیل نے اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا ہے۔


چونکہ یہ موضوع مرکزی وزیر سے متعلق ہے، اس لیے اس معاملے میں تمام اصول و ضوابط کو بھی بالائے طاق رکھا گیا۔ گوا کی ایکسائز پالیسی کے مطابق ریاست میں صرف موجودہ ریستوراں ہی بار لائسنس حاصل کر سکتے ہیں، وہ بھی ایک وقت میں ایک ریستوراں۔ لیکن گزشتہ سال فروری میں اسمرتی ایرانی کے خاندانی ریستوران کو غیر ملکی شراب کی خوردہ فروخت کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں تیار ہونے والی غیر ملکی اور ملکی شراب کی خوردہ فروخت کے لیے لائسنس جاری کر دیا گیا۔

دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بار لائسنس کے لیے درکار ریسٹورنٹ لائسنس کے بغیر ہی بار لائسنس جاری کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دھوکہ دہی کے انکشاف کے چند گھنٹے بعد ہی بی جے پی حکومت نے کل شام ایکسائز کمشنر نارائن گَڈ کو ہراساں کرنے کا کھیل شروع کر دیا۔ جنہوں نے شمالی گوا کے آساگاو میں مرکزی خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی کے خاندان کے ذریعہ چلائے جانے والے اس غیر قانونی بار اور ریستوراں کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا تھا۔


ایک اور پیشرفت یہ ہے کہ آج صبح سے متنازعہ تھنڈر فورس سیکورٹی کے باؤنسرز اس بار اور ریستوراں کے ارد گرد تعینات ہیں۔ یہ تمام حقائق بتاتے ہیں کہ کس طرح ہر سطح پر کرپشن کیا گیا ہے اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چونکہ یہ معاملہ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی سے متعلق ہے اس لیے یہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔

کانگریس لیڈران نے اسمرتی ایرانی سے متعدد سوال پوچھے ہیں، یہ دھاندلی کس کے اشارے پر ہو رہی ہے؟ غیر قانونی سرگرمیوں کے پیچھے کون ہے؟ وہ اسمرتی ایرانی جو کل تک راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے بارے میں طرح طرح کے سوالات پوچھ رہی تھیں، آج وہ اپنی خاندانی بدعنوانی پر کیوں خاموش ہیں؟ اس فراڈ کو چھپانے کا کھیل طاقت کے زور پر کیوں جاری ہے؟ قانون شکنی کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ قانون کے لمبے ہاتھ آہستہ آہستہ لیکن بدعنوانوں تک ضرور پہنچتے ہیں۔


کانگریس لیڈران نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسمرتی زوبن ایرانی کو فوری طور پر کابینہ سے برطرف کریں، اسمرتی زوبن ایرانی جنہوں نے 12 دسمبر 2004 کو وزیر اعلیٰ گجرات سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔