اسمبلی میں راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کیلئے مختلف امکانات کا جائزہ

517

حیدرآباد ۔26۔اگست (سیاست نیوز) بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی راجہ سنگھ پی ڈی ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری میں ہیں تو دوسری طرف تلنگانہ حکومت اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس مسئلہ پر ماہرین قانون سے رائے طلب کی تاکہ اسپیکر اور ایوان کی اخلاقیات کمیٹی کے ذریعہ راجہ سنگھ کی رکنیت ختم کی جائے۔ ایوان کو اختیار ہیکہ وہ کسی بھی رکن کے غیر دستوری اور غیر قانونی رویہ پر اسے رکنیت سے نااہل قرار دے سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اسمبلی کو زائد اختیارات حاصل ہیں اور وہ چاہیں تو اخلاقیات کمیٹی سے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کے دوران رکنیت ختم کرنے کیلئے قرارداد پیش کرسکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنے وکلاء کو چوکس کردیا ہے تاکہ پی ڈی ایکٹ کے خلاف کارروائی سے متعلق راجہ سنگھ کی کسی بھی درخواست کی بروقت مخالفت کی جاسکے۔ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کو پی ڈی ایکٹ کی کارروائی پر حکم التواء کا اختیار حاصل ہے لیکن حکومت چاہتی ہے کہ عدالت کوئی بھی فیصلہ حکومت کے موقف کی سماعت کے بعد کرے۔ یکطرفہ طورپر حکم التواء کے عبوری فیصلہ کو روکنے کیلئے حکومت کے وکلاء تیاری کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں راجہ سنگھ کا معاملہ پیر کے دن سماعت کیلئے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ مجلس نے اسپیکر سے نمائندگی کرتے ہوئے راجہ سنگھ کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی آر ایس قیادت ایک اور ضمنی چناؤ کے بارے میں شہر کے پارٹی قائدین سے رائے حاصل کر رہی ہے۔ اگر راجہ سنگھ کو نااہل قرار دیا گیا تو گوشہ محل اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناؤ یقینی رہے گا۔ ٹی آر ایس جو بی جے پی سے دو ضمنی چناؤ ہار چکی ہے ، وہ گوشہ محل کے بارے میں عجلت میں کوئی فیصلہ کرنا نہیں چاہتی ۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے منوگوڑ اور گوشہ محل میں پارٹی موقف کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بعض ماہرین نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے بجائے رکنیت سے ایک سال تک کیلئے معطل کرنے کا اختیار اسپیکر کے ذریعہ استعمال کریں۔

2015 ء میں آندھراپردیش میں وائی ایس آر کانگریس کی رکن روجا کو ایک سال کے لئے معطل کیا گیا تھا ۔ اگر راجہ سنگھ کے خلاف ایک سال معطلی کی کارروائی کی جائے تو وہ اسمبلی کی موجودہ میعاد کے دوران ایک بھی اجلاس میں شرکت نہیں کرپائیں گے۔ اسمبلی کی میعاد ڈسمبر 2023 ء میں ختم ہورہی ہے اور آخری اجلاس جولائی یا ستمبر میں منعقد ہوگا۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی اپنے انتخابی حلقہ بانسواڑہ کے دورہ پر ہیں اور توقع ہے کہ وہ پیر کو حیدرآباد واپس ہوں گے ، اس وقت وہ مجلس کی جانب سے دیئے گئے مکتوب کا جائزہ لیں گے ۔ تلنگانہ اسمبلی میں مارچ 2018 ء کے دوران اس وقت کے اسپیکر مدھو سدن چاری نے کانگریس ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کو ایوان کی رکنیت سے خارج کردیا تھا ۔ گورنر کے خطبہ کے دوران دونوں ارکان نے مائیک پوڈیم کی طرف پھینکا تھا جس کے نتیجہ میں صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ زخمی ہوئے تھے ۔ اسپیکر کی اس کارروائی پر ہائیکورٹ نے روک لگادی تھی۔ ر