تحسین عامر

صحابہ و صحابیات ؓ دنیا کے وہ عظیم انسان ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد تمام انسانوں سے بزرگ و برتر ہیں۔ ان کی زندگی کے کارنامے وہ کارنامے ہیں جن کے باعث اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ اُن سے راضی اور خوش ہوئے۔
اگر تعالیٰ یہ مبارک ہستیاں پیدا نہ فرماتا تو دین اپنی صحیح شکل میں ہمارے سامنے نہ آتا۔ بنی نوع انسان کے لیے انبیاء کرام کے بعد انہیں بزرگوں کی زندگی میں زندگی بسر کرنے کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ بزرگ مرد و خواتین جس طرح تحریک اسلامی کو لے کر آگے بڑھے، حمایت رسولﷺ میں انھوں نے جو قربانیاں دی اور جس جوش و استقامت سے اُسے پھیلایا وہ عام طور پر دنیا کے تمام انسانوں اور خاص طور پر مسلمان مرد و خواتین کے لیے بہترین تربیت کا ذریعہ ہے۔
صحابیاتؓ کی زندگیاں ہر زمانہ اور ہر دور میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امہات المومنین (ازواج مطہرات) اور بناتِ رسول ﷺ کی زندگیاں ان کی زندگی کے تمام مراحل بچپن ، جوانی ،شادی ، رخصتی ، سسرال ، شوہر ، خانہ داری ، عبادت، زہد و تقویٰ ، قناعت ، پرورش اولاد ، صدقہ و خیرات ، خدمت خلق ، اعزہ و اقربا سے محبت غرض ہر مرحلۂ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔

(۱) قبولِ حق : رہتی دنیا تک کے لیے یہ بات خواتین کے لیے باعث فخر ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لیے سب سے پہلے جو ہستی بڑھی وہ ایک عورت ہی تھی۔ حدیثوں مین آتا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’میں دو شنبہ (پیر کے دن) نبی ہوا اور خدیجہؓ نے اُسی دِن کے آخری حصے میں نماز پڑھی۔ علیؓ نے دوسرے دِن اس کے بعد زید بن حارثہؓ اور ابوبکرؓ نے۔‘‘
ایک نو مسلم انگریز نے حضورﷺ کے نبی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت کہا ہے۔ (حضرت خدیجہؓ کے مسلمان ہونے کو)
(۲) اسلام کے لیے قربانی: اسلام کی نظر میں قبول حق کے بعد اس کا اعلان کھلم کھلا ہونا چاہئے۔ بندہ بلاخوف کہے کہ میں مسلم ہوں۔ اس کے لیے چاہے اُسے کتنی ہی قربانی دینی پڑے، اپنی جان کی بازی لگانی پڑے۔ حضرت سمیہؓ اس میں پوری اُتریں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد کھل کر اعلان کردیا۔ حضرت سمیہؓ ایک لونڈی تھیں، ان کا مالک مکے کا رئیس ابوجہل تھا۔ ابوجہل نبیﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ حضرت سمیہؓ کے قبولِ اسلام پر ابوجہل نے طرح طرح کے دُکھ
(۱)
پہنچائے۔ آخر ایک دِن ابوجہل نے حضرت سمیہؓ کو سخت عذاب میں مبتلا کردیا۔ مکہ کی تپتی ریت میں دوپہر کو زرہ پہنا کر حضرت سمیہؓ کو کھڑا کردیا۔ اس پر بھی وہ اسلام سے نہ پھریں۔ تو دھوپ میں اسی ریت پر لٹا دیا۔ پھر بھی وہ اسلام پر ثابت قدم رہیں۔ تو ابوجہل نے جھنجھلا کر برچھی پھینک ماری۔ وہ برچھی حضرت سمیہؓ کے زیر ناف لگی اور وہ شہید ہوگئیں۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ راَجِعُوْن۔اِسلام کے لیے شہید ہونے والی پہلی خاتون حضرت سمیہؓ تھیں جو ایک ضعیف خاتون لونڈی تھیں۔
تاریخ کی کتابوںمیں لکھا ہے کہ عمر جیسے پہاڑ جب اپنی بہن فاطمہ جیسی چٹان سے ٹکرائے تو خود پاش پاش ہوگئے۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ بہن ہی کی بدولت انھیں اسلام کی دعوت حاصل ہوئی۔
لبینہؓ اور زنیرہؓ دونوں عمر (اسلام قبول کرنے سے پہلے) کی لونڈی تھیں۔ یہ دونوں مسلمان ہوئیں تو حضرت عمراُن کو اتنا پیٹتے تھے کہ تھک جاتے اور کہتے کہ میں تھوڑا آرام کرونگا پھر پیٹوں گا۔ عمر کی سزا کسی کو بھی اسلام سے پھیر نہ سکی۔ بلکہ عمر کو خود اسلام کی آغوش میں آنا پڑا اور وہ ایک وقت خلیفۃ المسلمین بنے۔
اُم حبیبیہ ابو سفیان کی بیٹی اور مکے کے رئیس عتبہ کی بہو تھیں۔ اپنے شوہر عبیداللہ کے ساتھ اسلام قبول کرکے حبشہ کو ہجرت کی تھی۔ لیکن اُن پر ستم یہ ہوا کہ اُن کے شوہر نے اسلام کو ترک کرکے عیسائی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ وقت بڑا نازک تھا اور دیارِ غیر میں تنہا عورت تھی۔ اُم حبیبہؓ نے مرتد شوہر کو ٹھکرا دیا۔ اسلام پر جمی رہیں۔ اِسے کہتے ہیں ایمان میں پختہ ہونا اور اسلام پر جمنا۔ ایسی ہی جواں ہمت اور پرعزم خواتین کے لئے اللہ کا فرمان ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثم الستَقَامُوْ تَتَنَزَّلُ عَلَیْھُمُ المَلٰئِکَۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا
ترجمہ : جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور اس پر جم گئے اُن پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے وہ کہتے ہیں نہ غم کرو اور نہ خوف ۔ (سورہ حم سجدہ ۔ ۳۰)
اسلام کے مطالبات کو پورا کرنے والی ایسی کئی صحابیات کی قربانیاں ہیں۔ جو آج کی خواتین کے ایمان کو بڑھانے والی ہیں۔ بشرطیکہ ہم اُن کی تاریخ پڑھیں۔
(۳) اِسلام کی حمایت : حمایت کے معنی ہیں مدد کرنا، طرفداری کرنا چاہے وہ زبان سے کی جائے یا قلم سے ، مال سے یا جان سے۔
(۲)

اسلام کی حمایت میں خواتین نے مردوں سے کم حصہ نہیں لیا۔ بعض نمونے تو ایسے دیکھے جاسکتے ہیں کہ اِن کی مثال مردوں میں نہیں ملتی۔ اگر اللہ تعالیٰ حضرت خدیجہؓ کو آپﷺ کی حمایت میں نہ کھڑا کرتا تو تحریک اسلامی کے ابتدائی مرحلے ایسے روشن اور تابناک نہ ہوتے جیسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ نے اپنے ہاتھوں سے حضورﷺ کے دِل کے زخموں پر ٹھنڈا مرہم رکھا۔ وہ نہ جناب ابو طالب کے بس کا تھا نہ حضرت ابوبکرؓ ہی اسے پیش کرسکتے تھے۔
مدارج النبوہ جلد دوّم میں ہے کہ :
’’قریش جب آپﷺ کی نبوت کو جھٹلاتے تو جو رنج آپ کو ہوتا اور آپ کے دِل کو جو صدمہ پہنچتا وہ حضرت خدیجہؓ کے پاس آکر ان کو دیکھ کر دور ہوجاتا۔ اور آپ خوش ہوجاتے اور جب آپﷺ فرماتے کہ قریش نے یہ اور یہ کہا اور یوں سنایا تو وہ زبان کی پوری طاقت سے آپ کی رسالت کی تصدیق کرتیں۔ اور قریش کے معاملے کو آپ کے سامنے ایسا ہلکا کرکے پیش کرتیں کہ آپ کے دِل کا بوجھ اتر جاتا۔ اور آپ دوسرے دِن کے لیے پھر تازہ دَم ہوجاتے۔‘‘
آج ہم بھی اپنے ایسے شوہر کی اس طرح حمایت کرسکتی ہیں جو اللہ کا دین پھیلانے میں لگا ہو۔ عمر کے ساٹھویں برس حضرت خدیجہؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تین سال شعب ابی طالب کی گھاٹی میں گزارے۔ کفار نے ناکہ بندی کردی کہ کوئی چیز اندر نہ جاسکے اور نہ کوئی شخص درے سے باہر نکل کر کچھ خرید سکتے۔ دُرّے کے اندر بوڑھے بھی تھے، بچے بھی ، عورتیں بھی عورتیں ، لڑکیاں بھی تھیں ، بیمار بھی تھے ۔ مائوں کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیاتھا۔ کچھ نہیں سوچا جاسکتا کہ اس وقت درّے میں گھری ہوئی کیسے ان بچوں کو سنبھالا ہوگا۔ بیان کرنے والوں نے بیان کیا ہے کہ کہیں چمڑے کا سوکھا ٹکرا مل گیا وہ اٹھا لائے اسے بھگویا اور باری باری سے چوس کر معدے کو دھوکہ دیا۔ غور کیجئے معدہ بھرا ہوگا یا اس کی آگ مزید بھڑکی ہوگی ؟؟
ان تین سالوں کی بائیکاٹ میں سب سے زیادہ دو بوڑھوں کی زندگی نے جواب دے دیا۔ ابو طالب کی عمر ۸۵؍ سال اور حضرت خدیجہؓ ۶۰؍ سال کی ۔ دونوں عمر اور حالات کی کٹھنائیوں سے اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ پھر سنبھل نہ سکے۔ آگے پیچھے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اس کا صدمہ حضورﷺ کو اتنا تھا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ میرے لیے غم کا سال تھا۔
’’مسلمانوں ! ان تکلیفوں کو جو اسلام کی حمایت اور اللہ کی راہ میں پیش آئیں، برداشت کرو اور ایک دوسرے کو جمے رہنے کی نصیحت کرو اور آپس میں مل کر رہو۔ اور اللہ سے ڈرو تاکہ آخرت میں تم اپنی مراد کو پہنچو۔ ‘‘ (آل عمران)
اللہ کے اس فرمان کی صحابیاتؓ نے پابجائی کی۔ آج ہم مسلم خواتین اپنے بچوں کو اسلام کے لیے اُبھار سکتی ہیں۔ اپنی
(۳)
زبان سے اپنے قلم سے ، اپنے مال سے اسلام کی مدد کرسکتی ہیں۔
(۴) اولاد کی تربیت : صحابیات رضی اللہ عنہم نے اپنی اولاد کی تربیت اسی انداز سے کی جس کا اسلام مطالبہ کرتا ہے۔ انھوں نے اپنی اولاد کی تربیت ایسے کی کہ وہ اللہ کی مرضی کے سانچے میں ڈھل گئے۔ انہوں نے کوشش کی کہ اولاد اسلام کے کام آجائے۔ اللہ کے رسولﷺ کی محبت میں تن، من ، دھن نثار کردے۔ ہمارے سامنے تاریخ کی بے شمار مثالیں ہیں۔
حضرت علیؓ جب پانچ برس کے تھے تب حضور ﷺ نے انھیں اپنے چچا ابو طالب سے لے کر اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ ایک صاحب قلم نے کس مزے کی بات لکھی ہے۔ لکھتا ہے ’’نبی کریم ﷺ کو نبوت کی ذمہ داریوں نے ایسا مصروف کر رکھا تھا کہ آپﷺ کو گھر اور بال بچوں کی دیکھ بھال کے لیے وقت نہیں ملتا تھا۔ اور حضرت خدیجہؓ تھیں جو گھر کے بنائے ہوئے تھیں اور حضور سے جو اشارے پاتی تھیں انہی کے مطابق بال بچوں کی پرواخت کررہی تھیں۔ پانچ برس کے علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بنانے میں اگر ایک طرف پروردگار عالم کی رحمت کام کررہی تھی تو دوسری طرف خدیجہؓ کا بھی ہاتھ تھا۔

ایک بار جب حضورﷺ کو دشمنوں نے گھیر لیا تو حضرت خدیجہؓ کے پہلے شوہر کے بیٹے ہالہ جو نوجوان تھے دوڑ کر گئے اور آپ کو بچانے لگے۔ ہالہ کے پہنچ جانے سے یہ تو ہوا کہ حضورﷺ بچ گئے لیکن اس فداکار پر کچھ ایسی چوٹیں کہ جانبر نہ ہوسکے۔
حسن حسین دونوں بھائی چھوٹے تھے تو ایک بار کھیل ہی کیھیل میں لڑ پڑے۔ حضرت فاطمہؓ جب دونوں بچوں کی شکایتیں سنیں تو فرمایا : ’’میں کچھ نہیں جانتی ، میں تو صرف یہ جانتی ہوں کہ تم دونوں لڑے اور لڑائی اللہ کو پسند نہیں۔ تم دونوں نے اللہ کو ناراض کیا۔ جائو میں بھی تم دونوں سے ناراض۔‘‘ دونوں بھائیوں نے ماں کی نظر دیکھی اور جھٹ آپس میں دوستی کرلی اور اللہ سے معافی مانگی ۔ غرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بڑی بڑی ہستیاں جن کو ہم اپنے لیے نمونہ سمجھتے ہیں۔ آپ سے آپ ایسی نہیں بن گئیں ان کو بنانے میں ان کی مائوں کی نظر اور تربیت تھی۔
اُم سلیمؓ مدینے کے انصار سے تھیں۔ ان کے شوہر مالک بن نضر کے انتقال کے بعد انھوں نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ جبکہ وہ نہایت خوبصورت اور مالدار تھیں۔ اور نکاح کے بہت پیغام بھی آئے تھے۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ جب تک میرا بیٹا مجلسوں میں بیٹھنے اٹھنے اور بات کرنے کے لائق نہ ہوگا اس وقت تک شادی نہ کروں گی۔ پھر اللہ کا فضل تھوڑے ہی
(۴)

دنوں بعد نبیﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اُم سلیمؓ اپنے آٹھ برس کے بیٹے کو لے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ! اس بچے کو اپنی خدمت کے لیے اپنے پاس رکھ لیں ۔ حضورﷺ نے یہ درخواست منظور فرمالی۔ آگے چل کر یہی بچہ حضرت انسؓ کے نام سے جانا پہچانا گیا۔ حضرت انسؓ بہت سے حدیثوںکے راوی ہیں۔ حضرت انسؓ فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ میری ماں کو جزائے خیر دے کہ انھوں نے مجھے خوب ہی پالا اور تربیت کا حق ادا کیا۔
(۵) علم سیکھنا : اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : اللہ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
(سورۃ فاطر)
نبی کریم ﷺ کو خود اس بات کا خیال رہتا تھا کہ دین کا علم خواتین تک کسی نہ کسی طرح پہنچانا چاہئے۔ چنانچہ آپﷺ خواتین کو ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ عید اور بقر عید میں عیدگاہ جایا کریں اور حضورﷺ کا خطبہ سنیں۔
قرآن کی تعلیم اور نبیﷺ کی ترغیب نے خواتین کے اندر علم کی پیاس بڑھا دی تھی۔ نبی ﷺ خواتین کے خاص اجتماعات کرایا کرتے تھے۔
حضرت خولہ بنت قیسؓ فرماتی تھیں کہ جمعہ کے دن نبیﷺ کا خطبہ میں اچھی طرح سن لیا کرتی تھی۔ جب کہ میں خواتین میں سب سے آخر میں ہوتی تھی۔
حضرت فاطمہ بنت حارثہؓ کہتی ہیں کہ میں نے سورہ ق ٓ حضورﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کرلیا تھا۔
سب سے زیادہ علم حضرت اُم المومنین عائشہؓ نے حضورﷺ سے سیکھا اور ان کے سیکھنے کا طریقہ بھی بہت عمدہ تھا۔ آپؓ بہت ذہین اور علم کا شوق رکھنے والی تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ حتیٰ کہ خوش شیخین (ابوبکرؓ و عمرؓ ) علم میں ان سے استفادہ کرتے تھے۔ ان کے بعد اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ کا نمبر ہے۔
ان دو بزرگ خواتین کے بعد ان خواتین نے بہت علم و فضل میں اونچا مقام حاصل کیاوہ ہیں۔ حضرت اُم عطیہؓ ، حضرت صفیہؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت اسماءؓ ، حضرت اُم شریکؓ ، حضرت خولہ ؓ ، حضرت عاتکہ ؓ اللہ ان سے راضی ہو۔
(۶) تبلیغ دین : یعنی دین کو پھیلانا ، ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہر شخص جو مسلمان ہوتا تھا۔ وہ چاہے مرد ہو یا عورت ، مسلمان ہونے کے بعد اسلام پھیلانے کی کوشش میں لگ جاتا تھا۔ جس طرح مسلمان ہونے والے
(۵)
مردوں نے اپنی بیویوں ، بہنوں ، مائوں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کا پیغام دینے کی کوشش کی۔ اُسی طرح مسلمان ہونے والی عورتوں نے بھی اپنے شوہروں بھائیوں اور دوسرے لوگوں کو اِسلام کی طرف بلایا۔
مثال کے طور پر : اسلام کی پہلی شہید خاتون حضرت سمیہؓ مکہ کے مشہور گھرانے (ابوجہل) بنی مخزوم کی لونڈی تھیں۔ وہ مسلمان ہوئیں تو انھوں نے اپنے شوہر یا سسر اور بیٹے عمار کو حضورﷺ کی خدمت میں پہنچایا۔ اور وہ دونوں بھی مسلمان ہوگئے۔
حضرت عمرؓ کی بہن فاطمہ ؓ مسلمان ہوئیں تو عمر بہت برہم ہوئے۔ ان کے گھر پہنچ کر ان کے شوہر زید کو اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ لیکن ہوا یہ کہ اس وقت بہن کی باتوں سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے۔
نبیﷺ سفر میں تھے، راستے میں ایک عورت ملی۔ اس کے پاس پانی تھا۔ صحابہ ؓ ساتھ تھے۔ صحابہؓ نے اس سے پانی لیا۔ حضورﷺ پانی کی قیمت دی۔ اور اسلام پیش کیا۔ وہ عورت مسلمان ہوگئی۔ پھر اپنے قبیلے میں پہنچی اور اس نے سارے قبیلے کو مسلمان کیا۔ (بخاری شریف)
حاتم طائی کی بیٹی ایک لڑائی میں گرفتار ہوکر حضورﷺ کی خدمت میں لائیں گئیں۔ آپﷺ نے انھیں آزاد کردیا۔ انھوں نے طے قبیلے کے دوسرے قیدیوں کے بارے میں سفارش کی تو آپ نے ان سے اس سفارش کو قبول کیا۔ اور سب کو آزاد کردیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ مسلمان ہوگئیں اور اپنے بھائی عدی بن حاتم سے ملیں اور بہترین انداز میں حضور کی تعریف اور اسلام کی دعوت دی کہ عدی بھی مسلمان ہوگئے۔
حضرت ام سلیمؓ (حضرت انس کی والدہ) بہت مشہور صحابیہ ہیں۔ وہ مسلمان ہوئیں تو مدینے کے محلوں میں جاجاکر اسلام کی تبلیغ کرتی تھیں۔ وہ بیوہ ہوئیں تو ان کے قبیلے کے ایک صاحب طلحہ نے شادی کا پیغام دیا۔ اس وقت ابو طلحہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اُم سلیمؓ نے ان پر اس طرح تبلیغ کی :
’’اے ابو طلحہ! میں تو محمدﷺ پر ایمان لائی ہوں۔ تعجب ہے کہ تم اتنے سمجھدار آدمی ہو لیکن اب تک مسلمان نہیں ہوئے۔ بڑے افسوس کی بات ہے میں مسلمان ایک مشرک سے (جو لکڑی اور پتھر کو پوجتا ہے) کیسے شادی کرسکتی ہوں۔ یہ سن کر ابو طلحہ دن بھر غور کرتے رہے اور صبح کو مسلمان ہوگئے۔‘‘
حضرت ناجیدؓ نہایت سنجیدہ اور حسین و جمیل تھیں۔ شعر و سخن سے دلچسپی رکھتی تھیں۔ مہینے میں دو مرتبہ مختلف قبائل کیخواتین کے پاس جایا کرتی تھیں۔ ایرانی خواتین سے جنگ یرموک کی فتح کے بعد آپ نے بہترین خطاب فرمایا۔ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ پاک کے لیے ہے جو ایک ہے اور اس جیسا دوسرا نہیں۔ اللہ ہی زمین اور آسمان کا مالک ہے۔ اسکا کوئی شریک نہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جب کوئی گنہ گار آدمی اسکے آگے توبہ کے لیے سر جھکاتا ہے تو وہ مہربان اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
محترم بہنوں! میں درخواست کرتی ہوں کہ غلط راستہ چھوڑ کر صحیح راستہ اختیار کرو۔ تاریکی سے نکل کر روشنی میں آئو، اللہ بھی تمہاری مدد کرے گا۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہ‘ ۔ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہ‘۔ (سورہ بینہ)

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔