مصری خاتون فن کار عائدہ ریاض نے مسیحی پادری زکریا پطرس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مذکورہ پادری نے حال ہی میں دینِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز بیان دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تنازع کھڑا ہو گیا۔

عائدہ نے اتوار کی شام اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پادری زکریا پطرس کی تصویر پوسٹ کی جس پر "Cross” کا نشان لگا ہوا تھا۔ عائدہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "میں دینِ اسلام کی کسی بھی صورت میں توہین کو مسترد کرتی ہوں۔ میں اس کا بے حد احترام کرتی ہوں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو ہمارے بیچ تفریق پیدا کر سکے”۔

مصری فن کارہ کا مزید کہنا تھا "میں خود مسیحی ہوں اور ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پیغمبر اسلام (ﷺ) کی ولادت کی خوشی مناتی ہوں”۔

اس سے قبل بیرون ملک مقیم مصری پادری زکریا پطرس نے اسلام اور رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز بیان دیا تھا۔ اس بیان نے غم و غصے کے شدید جذبات پیدا کر دیے۔ کئی حلقوں کی جانب سے مذکورہ پادری کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ادھر مصر کے آرتھوڈکس قِبطی چرچ نے ہفتے کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ 18 برس سے زیادہ عرصے سے اس پادری کا مذکورہ چرچ کے ساتھ تعلق منقطع ہو چکا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ زکریا پطرس مصر میں پادری ہوا کرتا تھا اور وہ کئی چرچوں میں منتقل ہوا۔ اس نے ایسی تعلیمات پیش کیں جو آرتھوڈکس عقیدے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ اسی لیے پطرس کو پہلے آسٹریلیا اور پھر برطانیہ بھیج دیا گیا۔ اس تمام عرصے میں چرچ نے پطرس کے عقائد و نظریات کا جائزہ لینے کی کوشش جاری رکھی۔ بیان کے مطابق 11 جنوری 2003ء سے زکریا پطرس کا آرتھوڈکس قبطی چرچ کے ساتھ تعلق باقی نہیں رہا۔

چرچ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں زکریا پطرس امریکا گیا جہاں اس نے گھروں اور ہوٹلوں میں بعض ملاقاتوں کا انعقاد کیا۔ چرچ کے مطابق پطرس کے توہین آمیز بیانات کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ مسیحیت کی روح کے موافق نہیں ، ہم اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے لیے مکمل محبت اور احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔