کتابوں اور گائیڈ بکس میں اسلام مخالف مواد شائع ہونے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں اور راجستھان میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ منظر عام پر آیا ہے جس کے خلاف پولس نے 17 مارچ کو ایف آئی آر درج کی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق راجستھان پولس نے بدھ کی دیر شام ’راجستھان اسٹیٹ ٹیکسٹ بک بورڈ‘ کے خلاف یہ ایف آئی آر درج کی ہے۔

 بتایا جا رہا ہے کہ بارہویں درجہ میں پولٹیکل سائنس کی جو کتاب پڑھائی جا رہی ہے اس میں اسلام کے تعلق سے متنازعہ مواد شامل ہے۔ کتاب میں اسلامی دہشت گردی کے سوال پر ایک جواب شائع کیا گیا اور یہ سوال سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کی کتاب میں بھی پوچھا گیا ہے۔ یہ مواد اور دیگر تبصرے 2018 میں شائع کتاب میں شامل تھے جس کو لے کر ریاست میں مسلمانوں کے ایک سرکردہ ادارہ ’راجستھان مسلم فورم‘ کی شکایت پر لال کوٹھی پولس کے ذریعہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایک پرائیویٹ پبلشنگ ہاؤس سنجیو پبلی کیشن کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوئی ہے جو اسلام پر قابل اعتراض مواد کو دہراتے ہوئے طلبا کے لیے گائیڈ بک پرنٹ کر رہا تھا۔

خبروں کے مطابق کتاب میں جس سوال کو لے کر تنازعہ ہوا ہے اس میں پوچھا گیا ہے کہ اسلامی دہشت گردی سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اس کے جواب میں لکھا گیا ہے کہ ’’اسلامی دہشت گردی اسلام کی ہی ایک شکل ہے، جو گزشتہ 30-20 سالوں میں زیادہ طاقتور بن گیا ہے۔ دہشت گردوں میں کسی ایک خاص گروپ کے تئیں خودسپردگی کا جذبہ نہیں ہو کر ایک خاص طبقہ کے تئیں خود سپردگی کا جذبہ ہوتا ہے۔ خاص طبقہ کے تئیں عزائم اسلامی دہشت گردی کی اہم روش ہے۔ مذہب یا اللہ کے نام پر اپنی جان قربان کرنا اور غیر محدود بربریت، بلیک میل، جبراً پیسہ وصولی اور بے دردی سے قتل کرنا ایسی دہشت گردی کی خصوصیات بن گئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی پوری طرح سے مذہبی اور علیحدگی پسندی کے درجہ میں آتی ہے۔‘‘

متنازعہ مواد کو لے کر کچھ لوگوں نے سنجیو پبلی کیشن کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی تھی جب کہ پبلی کیشن کے منیجر وجے شنکر کا کہنا ہے کہ بارہویں کی پالیٹیکل سائنس کی ایک کتاب میں اسلامی دہشت گردی کے سوال پر ایک جواب شائع کیا گیا تھا۔ اسی کو لے کر تنازعہ ہوا ہے۔ لیکن جب کچھ وقت پہلے اعتراض ظاہر کیا گیا تھا تو سبھی کتابیں بازار سے واپس لے لی گئی تھیں۔ ساتھ ہی نئی کتابوں میں سبھی ایسے مواد کو ہٹا دیا گیا تھا تاکہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔