اسلام اور مسلمان

330

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک شخص ٹیکسی میں سوار ہوا، زبان نہ آنے کی وجہ سے زیادہ بات تو نہ کر سکا، بس اس انسٹیٹوٹ کا نام لیا جہاں اسے جانا تھا، ٹیکسی ڈرائیور سمجھ گیا، اس نے سر جھکایا اور مسافر کو دروازہ کھول کر بٹھایا۔اس طرح بٹھانا ان کا کلچر ہے

سفر کا آغاز ہوا تو ٹیکسی ڈرائیور نے میٹر آن کیا، تھوڑی دیر کے بعد بند کر دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ آن کر دیا، مسافر حیران تھا مگر زبان نہ آنے کی وجہ سے چپ رہا، جب انسٹیٹوٹ پہنچا تو استقبال کرنے والوں سے کہنے لگا، پہلے تو آپ اس ٹیکسی ڈرائیور سے یہ پوچھیں کہ اس نے دورانِ سفر کچھ دیر گاڑی کا میٹر کیوں بند رکھا؟
مسافر کی شکایت پر لوگوں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟

وہ بولا ’’راستے میں مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے جس جگہ سے مڑنا تھا، وہاں سے نہ مڑ سکا، اگلا یوٹرن کافی دور تھا، میری غلطی کے باعث دو ڈھائی کلومیٹر سفر اضافی کرنا پڑا، اس دوران میں نے گاڑی کا میٹر بند رکھا، جو مسافت میں نے اپنی غلطی سے بڑھائی اس کے پیسے میں مسافر سے نہیں لے سکتا‘‘۔
آپ کو حیرت ہوگی کہ وہ ڈرائیور نہ مسلمان تھا.
نہ وہ نماز پڑھتا تھا،
نہ کلمہ
نہ اس کی داڑھی تھی،
نہ جبہ،
نہ ٹوپی نہ پگڑی تھی
مگر دیانتداری تھی،

ہمارے پاس سب کچھ ہے . . . . مگر…
دیانتداری اور ایمانداری نہیں ہے،
ہم مسلمان تو ضرور ہیں مگر ہمارے پاس اسلام نہیں ہے، اسلام پگڑی کا نام نہیں،
اسلام صرف کرتے، پاجامے اور داڑھی کا نام نہیں،
بدقسمتی سے ہم نے انھیں چیزوں کو اسلام سمجھ لیا اور بقیہ اسلام کو چھوڑ دیا جو اسلام کی اصل تھا.
اسلام دیانت داری کا نام ہے.
اسلام سچ بولنے کا نام ہے.
اسلام ایمانداری کا نام ہے.
وعدہ پورا کرنے کا نام اسلام ہے،
اسلام صحیح ناپنے اور پورا تولنے کا نام ہے،
وقت کی پابندی کا نام اسلام ہے.
اسلام دیانتداری کا نام ہے‘‘
کاش ہم یہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کرتے.!!! ۔(ماخوذ)