اسلامی قانون نافذ ہونے کے بعد افغانستان میں 19 افراد کو مختلف جرائم پرسرِعام کوڑے پڑگئے!

552

طالبان کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ رواں ماہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ تخارمیں 19 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے ہیں۔ یہ حکمران گروپ کی جانب سے فوجداری مقدمات پر شریعت (اسلامی قانون) کی سخت تشریح کو لاگو کرنے کی پہلی بڑی علامت ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان مولوی عنایت اللہ نے بتایا کہ ’’مکمل غوروخوض اور سخت شرعی تحقیقات کے بعد ان میں سے ہرفردکو 39 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی‘‘۔

ترجمان کے مطابق ان سزاؤں پرشمال مشرقی صوبہ تخار میں 11 نومبر کو صوبائی عدالتوں کے حکم پر نماز جمعہ کے بعدعمل درآمد کیا گیا تھا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کو کن جرائم کی پاداش میں کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی۔