اسرائیل کا شام میں ایران کے ٹھکانوں پرفضائی حملہ ، متعدد افراد ہلاک

341

شام کے مشرقی صوبہ حماہ میں جمعرات کو ایران کی اتحادی ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کے نتیجے میں "متعدد ہلاکتیں” ہوئی ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اسرائیل کو اس فضائی بمباری کا موردالزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ایران سے وابستہ ملیشیا کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ٹھکانوں اور ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس جنگی مانیٹر نے شام میں اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذرائع کے حوالے سے حماہ میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس نے مزید کہا ہے کہ شامی فضائیہ کے ایک افسر کے لاپتا ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے کسی جانی نقصان کا ذکر کیے بغیرکہا کہ ہمارے فضائی دفاع کو فضا میں دشمن کے اہداف کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ شام میں 2011ء میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے اپنے پڑوسی ملک میں سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں سرکاری فوجیوں کے ساتھ ساتھ صدر بشارالاسد کے اتحادی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اورلبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اگرچہ اسرائیل انفرادی حملوں پرشاذ و نادر ہی کوئی تبصرہ کرتا ہے لیکن اس نے ان میں سے سیکڑوں حملوں اور ان میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو صہیونی ریاست کی دہلیز پر قدم جمانے سے روکنے کے لیے اپنے دفاع میں یہ کارروائیاں کررہی ہے۔