صدر رئیسی کا انتباہ۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی تحقیقات جاری رکھنے اسرائیل کا مطالبہ

تہران : ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف “ادنیٰ سی حرکت” بھی کی تو ایرانی مسلح افواج اسرائیل کے قلب کو نشانہ بنائیں گی۔ پیر کے روز ایک فوجی پریڈ سے خطاب میں رئیسی کا کہنا تھا کہ “اگر تم لوگوں نے ہمارے عوام کے خلاف ادنی سی حرکت بھی کی تو ہماری مسلح افواج کا رخ تمہاری حکومت کے قلب کی جانب ہو گا۔رئیسی کے خطاب کو ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیااسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کا ایک “جوہری ریاست” بننا ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ تہران اور بڑی عالمی طاقتیں اس وقت 2015ء میں طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں ہیں۔چہارشنبہ کے روز اسرائیلی سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کے لئے مطلوب افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔یروشلم پوسٹ اخبار کے مطابق مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران 60 افزوہ یورینیم کی ایک بڑی مقدار حاصل کرنے کے قریب ہو رہا ہے جو ایک بم تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ امر سرخ لکیر ہے جس کو مغربی ممالک نے بات چیت میں رکھا تھا۔ایک سفارتی ذریعے کے مطابق ایرانیوں نے ابھی تک درمیان کے حل کے لیے یورپی ممالک کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا ہے۔ ایرانیوں نے کسی بھی معاہدہ تک پہنچنے کے لیے یہ بنیادی شرط رکھی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے خارج کیا جائے۔دوسری جانب اسرائیلی ذمہ داران نے یورپی مذاکرات کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری زاویوں کے حوالے سے جاری تحقیقات بند نہیں کرے گی۔