تل ابیب :کورونا وائرس کی ویکسین تیار ہونے کے بعد چند ہفتوں میں ہی اسرائیل اپنی لگ بھگ تمام آبادی کو یہ ویکسین لگاچکا ہے لیکن اس کی طرف سے فلسطین میں اس ویکسین کی کتنی خوراکیں بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے؟ اس سوال کا جواب سن کر ہر مسلمان رنجیدہ ہو جائے .

میل آن لائن کے مطابق اسرائیل جہاں اپنی تقریباً تمام تر آبادی کو ویکسین لگا چکا ہے وہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے شدید دباﺅ کے بعد اس نے صرف 5ہزار ویکسین شاٹس فلسطینی اتھارٹی کو بھجوانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے .

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے شہریوں کو کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کے لیے انتہائی برق رفتاری سے کام کیا. اسرائیلی محکمہ صحت نے فوج کے ساتھ مل کر دن رات شہریوں کو ویکسین لگائی لیکن 1967سے اپنے زیرقبضہ مغربی کنارے پرویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں بھجوائی. 48لاکھ فلسطینی چاروں طرف سے اسرائیل کے محاصرے میں ہے اور وہاں بیرونی دنیا سے کوئی چیز، حتیٰ کہ ادویات بھی نہیں پہنچ سکتیں.

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اسرائیل پر دباﺅ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ ان 48لاکھ فلسطینیوں کے لیے بھی کورونا ویکسین مہیا کرے. کئی ہفتوں کے لیت و لعل کے بعد اب اسرائیل نے صرف 5ہزار ویکسین شاٹس فلسطینیوں کو مہیا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے.