جدہ۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی اسرائیل تعلقات خطے کے لیے فائدہ مند ہونگے،سعودی اسرائیل تعلقات کا دارومدار امن عمل میں پیشرفت پر ہے۔سعودی وزیر خارجہ احمدیوسری نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے دفاع اور معیشت مضبوط ہوگی، ہم آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست چاہتے ہیں،ایسی ریاست چاہتے ہیں جو فلسطینیوں کو منظور ہو۔واضح رہے کہ 4عرب ممالک نے صیہونی اسرئیل کو تسلیم کرچکے ہیں، اسرائیل کے وزیر انٹیلی جنس ایلی کوہین نے دعویٰ کیا تھا کہ مزید 3عرب ممالک جلد اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ، “یہ معاشی ، معاشرتی اور سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے انتہائی مددگار ثابت ہوگا ،’’انہوں نے مزید کہا کہ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب 1967 کی سرحدوں کے اندر کسی فلسطینی ریاست کی فراہمی ہو۔اس سے قبل سعودی عرب بھی اسی طرح کے تبصرے کرچکا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ہی معمول پر لائے گا جو فلسطینیوں کو ایک خودمختار ریاست کی فراہمی کرے گا۔شہزادہ فیصل نے گذشتہ سال دسمبر میں کہا تھا کہ “ہمیں جو امن عمل ہونے کی ضرورت ہے وہ ایک امن معاہدہ ہے جو ایک فلسطینی ریاست کو وقار اور قابل عمل خودمختاری کے ساتھ فراہم کرتا ہے جسے فلسطینی قبول کرسکتے ہیں۔ “انہوں نے اس وقت مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا طویل عرصے سے سعودی عرب کے وڑن کا حصہ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مملکت نے 1967 کی حدود میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے میں اس اقدام کا تصور کیا تھا۔ اس اقدام میں اسرائیل اور دیگر عرب ریاستوں کے مابین تعلقات معمول پر لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں انہوں نے 1967 کی جنگ میں مقبوضہ علاقوں: گولان ہائٹس ، مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے سمیت اسرائیل کی طرف سے مکمل انخلا کے بدلے۔عرب لیگ کے ذریعہ گذشتہ برسوں میں اس اقدام کی دوبارہ تائید ہوئی لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں