اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات نے آزاد تجارت کے معاہدے پرمذاکرات مکمل کرلیے ہیں۔ اسرائیل کی وزارتِ معیشت اور متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے خارجہ تجارت نے جمعہ کو آزاد تجارت پربات چیت مکمل ہونے کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیلی وزارت معیشت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تجارتی معاہدے میں 95 فی صد تجارتی مصنوعات شامل ہیں جوفوری یا بتدریج کسٹم فری ہوں گی۔ان میں خوراک، زراعت اور کاسمیٹک مصنوعات کے علاوہ طبّی آلات اور ادویہ بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں ریگولیشن، کسٹمز، سروسز، سرکاری خریداری اور برقی تجارت شامل ہے اور یہ اس وقت نافذ العمل ہوگا جب دونوں ملکوں کے اقتصادی امور کے وزراء اس پر دست خط کردیں گے اور اس کی توثیق کی جائے گی، تاہم اس کا کوئی نظام الاوقات نہیں دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات اوراسرائیل کے درمیان 2020 میں امریکاکی ثالثی میں معاہدہ ابراہیم طے پایا تھا۔اس کے تحت دونوں ملکوں نے باضابطہ طور پرسفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کیے تھے۔بحرین بھی اس معاہدے کا حصہ تھا اور بعد میں مراکش بھی اس میں شامل ہوگیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے خارجہ تجارت ثانی الزیودی نے ٹویٹرپرکہاکہ ’’یہ سنگِ میل کی حیثیت کا حامل یہ معاہدہ تاریخی ابراہیم معاہدے پر استوار ہوگا اور دنیا کے اہم ترین اورامید افزا اُبھرتے ہوئے تجارتی تعلقات میں سےایک کو مستحکم کرے گا‘‘۔