اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دونوں حریف اپنے سیاسی معاہدے کو حتمی صورت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سمجھوتے کا مقصد اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے سربراہ کو اقتدار سے باہر کرنا ہے۔

رواں سال 23 مارچ کو اسرائیل میں انتخابات ہوئے۔ یہ دو سال کے عرصے میں چوتھے غیر فیصلہ کن انتخابات ثابت ہوئے۔ اس بار بھی کوئی جماعت 120 نشستوں کے پارلیمنٹ میں غالب اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ نیتن یاہو کی "لیکوڈ” جماعت انتخابات میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔رواں سال 6 اپریل کو کو اسرائیل کے صدر رئیوفین ریولین نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے 28 روز کی مہلت دی۔ تاہم نیتن یاہو حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے۔

گذشتہ ماہ 5 مئی کو صدر ریولین نے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ وہ ایک "تبدیلی کی حکومت” تشکیل دینے کے لیے دائیں اور بائیں بازو اور معتدل موقف کی جماعتوں کو حکومتی احتاد میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس طرح کو اتحاد بھی کھوکھلا ثابت ہو گا۔ اسے پارلیمنٹ میں عرب ارکان کی جانب سے بیرونی سپورٹ کی ضرورت ہو گی۔

گذشتہ ماہ 10 مئی کو اسرائیل اور غزہ میں حماس کے بیچ جنگ چھڑ گئی۔ 11 روز بعد 21 مئی کو فائر بندی کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کی تشکیل کے لیے بات چیت کا دوبارہ آغاز ہوا اور 30 مئی کو نفتالی بینیٹ نے اعلان کیا کہ وہ وسطی بلاک میں اپنے حریفوں کے ساتھ شامل ہو کر بنیامین نیتن یاہو کی حکومت گرائیں گے۔آج رات نصف شب کو یائر لیپڈ کو حکومتی تشکیل کے لیے دی گئی مہلت اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ اگر وہ ناکام رہے تو پھر صدر ریولین وزارت عظمی کے امیدوار کی نامزدگی کا معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیں گے۔ ممکن ہے کہ اس طرح نیتن یاہو پھر سے اس دوڑ میں شامل ہو جائیں۔