اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ پر جمعے کی علی الصبح دھاوا بول دیا جہاں ہونے والی جھڑپوں میں طبی کارکنان کے مطابق اب تک کم از کم 152 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔طلوع فجر سے قبل اسرائیلی سکیورٹی فورسز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو گئیں جہاں ہزاروں فلسطینی رمضان کے مقدس مہینے میںنماز کے لیے جمع تھے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل نے کہا کہ فورسز ان چٹانوں اور پتھروں کو ہٹانے کے لیے مسجد میں داخل ہوئیں جو تشدد کے پیش نظر جمع کیے گئے تھے۔یہ تازہ جھڑپیں ایسے حساس وقت پر ہوئی ہیں جب مسلمان رمضان کے دوسرے جمعے کی تیاری کر رہے ہیں، یہودیوں کی ہفتے بھر کی طویل تعطیلات جمعہ کو غروب آفتاب کے وقت شروع ہوں گئی اور مسیحیوں کا مقدس ہفتہ بھی ہے جس کا اختتام اتوار کو ایسٹر پر ہو گا۔ تعطیلات سے بیت المقدس کے پرانے شہر میں تینوں مذاہب کے دسیوں ہزار عبادت گزاروں کی آمد متوقع ہے۔تازہ ترین جھڑپوں کی آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز میں فلسطینیوں کو پتھر پھینکتے اور پولیس کو مسجد کے چاروں اطراف سے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ فائر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

دیگر ویڈیوز میں آنسو گیس کے گہرے بادلوں کے باوجود نمازیوں کو مسجد کے اندر ہی روکے ہوئے دکھایا گیا ہے۔فلسطینی ہلال احمر ایمرجنسی سروس نے کہا ہے کہ سروس نے 67 افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کیا جو لاٹھی چارج، ربڑ کی گولیوں یا سٹن گرینیڈ سے زخمی ہوئے تھے۔اوقاف نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر موجود ایک محافظ کی آنکھ میں ربڑ کی گولی لگی ہے۔جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 152 تک پہنچ چکی ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی اور حماس کے جھنڈے اٹھائے ہوئے درجنوں نقاب پوش افراد نے جمعے کی صبح مسجد کے احاطے کی جانب مارچ کیا اور پتھر اکٹھے کیے۔ایک ٹویٹ میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ’پولیس کو ہجوم کو منتشر کرنے اور پتھروں اور چٹانوں کو ہٹانے کے لیے احاطے میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا تاکہ مزید تشدد کو روکا جا سکے۔‘

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ نماز ختم ہونے تک انتظار کرتے رہے اور ہجوم منتشر ہونا شروع ہو گیا۔ایک بیان میں پولیس نے کہا کہ ہجوم نے یہودیوں کے مقدس مقام یعنی دیوارِ گریہ کی سمت پتھر پھینکنا شروع کر دیے جس سے وہ حرکت میں آنے پر مجبور ہوئے۔ان کا دعویٰ تھا کہ وہ خود مسجد میں داخل نہیں ہوئے تھے۔فلسطینی مسجد الاقصیٰ میں پولیس کی کسی بھی تعیناتی کو ایک بڑی اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہ مسجد اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنائی گئی ہے جو یہودیوں کے لیے سب سے مقدس مقام ہے اور وہ اسے ’ٹمپل ماؤنٹ‘ کہتے ہیں۔یہ کئی دہائیوں سے اسرائیلی اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کا ایک بڑا فلیش پوائنٹ رہا ہے اور 2000 سے 2005 کے درمیان فلسطینی بغاوت کا مرکز تھا۔

حالیہ ہفتوں میں فلسطینیوں کے حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس میں اسرائیل کے اندر 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اس کے بعد اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں گرفتاریوں اور فوجی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس سے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپیں عام ہو گئی ہیں۔فلسطینی وزارت صحت نے کہا کہ ایک 17 سالہ نوجوان جمعے کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے اکھٹے کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق تشدد کی حالیہ لہر میں کم از کم 25 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک غیر مسلح خاتون اور ایک وکیل بھی شامل تھے۔آج مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے دسیوں ہزار فلسطینیوں کے جمع ہونے کی توقع تھی۔