مقبوضہ بیت المقدس؍جنین؍ویٹی کن سٹی؍ نیویارک؍ دوحہ ۔ اسرائیلی فورسز نے لیلتہ القدر پر خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے والے سیکڑوں فلسطینیوں کو دوسری رات بھی تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 80سے زائد زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران فلسطینی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے کھڑی گئی رکاوٹیں گراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ اسرائیلی فورسز نے انہیں پسپا کرنے کے لیے اسٹن دستی بم اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق زخمیوںمیں ایک سال کا بچہ بھی شامل ہے جبکہ 14 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ کم از کم ایک افسر فلسطینی نوجوانوں کے حملے میں زخمی ہوا ہے۔پرانے شہر کے دمشق دروازے کے قریب تقریر کرتے ہوئے 27 سالہ محمود المربو نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دعا کریں، یہاں ہر روز لڑائی اور جھڑپیں ہوتی ہیں۔انہوں نے پولیس اور نوجوان کے مابین ہنگامہ آرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پولیس تھنڈر فلیش استعمال کرتے ہیں ‘دیکھو وہ کس طرح ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں فائرنگ کرکے 2 فلسطینی نوجوان شہیداور ایک کو زخمی کردیا۔اسرائیلی فوجیوں نے ہلال احمر کے طبی عملے کو امدادی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ دوسری جانب اسرائیل نے کہا کہ وہ مزید محاذ آرائی کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کو بڑھا رہا ہے۔ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ مصر کشیدگی کو روکنے کے لیے فریقین کے مابین ثالثی کر رہا ہے۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال قابل مذمت اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ القدس اب بھی مقبوضہ فلسطینی اراضی کا حصہ ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں