اسرائیلی صحافی مقدس شہر مکہ میں داخل: رپورٹ پر تنقید کے بعد گل تماری نے معافی مانگ لی

1,092

ایک اسرائیلی شخص اور وہ بھی مکہ میں۔۔۔؟ پہلے تو یہ بات تسلیم کرنا ہی مشکل لگتا ہے لیکن اسرائیل کے چینل 13 نیوز کی ایک 10 منٹ کی رپورٹ نے سب کو حیران کیا ہے جس میں ان کے صحافی گِل تماری سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں ان مقامات کا دورہ کرتے ہیں، جہاں غیر مسلم افراد کا داخلہ منع ہے۔

اس رپورٹ کی نشریات اور تنقید کے بعد اسرائیلی صحافی نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکہ اور اسلام کی خوبصورتی دنیا کو دکھانا چاہتے تھے تاکہ مذہبی رواداری کو فروغ مل سکے۔

مگر ایک اسرائیلی وزیر نے گل تماری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک احمقانہ حرکت تھی جس نے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کے لیے امریکی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

’مکہ میں غیر مسلموں کا داخلہ منع لیکن ایک شخص نے میرے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی‘اس رپورٹ کو ایک سکوپ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ ’گل تماری وہ پہلے اسرائیلی رپورٹر ہیں جو مکہ میں داخل ہوئے۔‘

ویڈیو رپورٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گل تماری بذریعہ کار سفر کرتے ہیں اور ان ساتھ ایک مقامی گائیڈ بھی ہے جس کا چہرہ چھپایا گیا ہے تاکہ اس کی شناخت نہ کی جا سکے۔رپورٹ کے دوران گل کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے عبرانی زبان میں بات کرتے ہیں اور اپنی آواز دھیمی رکھتے ہیں۔ وہ بعض اوقات انگلش میں بات کرنے لگتے ہیں تاکہ کسی کو یہ نہ پتا چل سکے کہ وہ اسرائیل سے آئے ہیں۔

اس میں وہ خود بتاتے ہیں کہ سعودی قوانین کے مطابق یہاں غیر مسلموں کا داخلہ منع ہے۔ ویڈیو کے آغاز میں وہ کہتے ہیں کہ ’یہ شہر ان تمام افراد کے لیے بند ہے جو مسلمان نہیں۔ ان کے لیے یہاں داخل ہونے پر پابندی ہے۔‘

’یہ واضح تھا کہ میرے لیے مکہ داخل ہونا ناممکن ہے لیکن مجھے ایک بہترین شخص ملا جس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مجھے اس سفر پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔‘

رپورٹ سے جڑی تحریر میں لکھا ہے کہ ’سکیورٹی چیک پوائنٹ کے بعد سعودی پولیس اہلکار نے ہمیں مکہ کی طرف گاڑی چلاتے رہنے کا کہا۔ کچھ فاصلے پر آپ شہر کا بہت بڑا کلاک ٹاور دیکھ سکتے ہیں جس کے پاس خانہ کعبہ ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’اگر پولیس ہمیں روکے گی تو ہم بتائیں گے کہ مکہ میں دوستوں سے ملنے جا رہے ہیں۔‘

رپورٹ میں وہ کئی روڈ سائنز کے پاس سے گزرتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کا آگے جانا منع ہے۔ پولیس کی چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے وہ اپنے کیمرے نیچے کر لیتے ہیں۔

عرفات پہنچنے پر تماری کے گائیڈ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ سب غیر قانونی ہے۔‘ وہ بظاہر پریشان نظر آتے ہیں کہ لوگ ان پر شک کر رہے ہیں۔ ایسے میں تماری عبرانی زبان میں کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہاں صرف مسلمان داخل ہو سکتے ہیں۔ آج تک کسی اسرائیلی صحافی نے یہاں سے نشریات نہیں کی۔‘انھوں نے رپورٹ میں بتایا کہ ’جب ہم عرفات کے پہاڑ پر پہنچے اور چوٹی کی طرف چلنے پر میرے گائیڈ نے مجھے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا اور کہا کہ اس نے کچھ لوگوں کو آپس میں بحث کرتے ہوئے سنا کہ یہ مسلمان ہیں یا نہیں۔ تھوڑی دیر بعد ہم گاڑی تک پہنچ گئے۔ پھر آخر کار شہر سے باہر نکل گئے۔‘

’یہ احمقانہ حرکت تھی‘
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد گل تماری کو آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اسرائیل کے علاقائی تعاون کے وزیر عيساوی فريج، جو کہ ایک مسلمان ہیں، نے اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’میں معذرت چاہتا ہوں (لیکن) یہ احمقانہ حرکت تھی جس پر فخر کیا گیا۔ صرف ریٹنگز کے لیے اس رپورٹ کو نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کی امریکی کوششوں اور متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ سفارتی معاہدوں کو نقصان پہنچایا۔

ریاض تاحال اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا اور اس کی حمایت تاریخی اعتبار سے فلسطین کے ساتھ رہی ہے۔اس رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد ٹوئٹر پر ’اے جیو اِن مکاز گرینڈ ماسک (یعنی مکہ کی مسجد الحرام میں ایک یہودی)‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا تھا۔

ایک سعودی سماجی کارکن محمد سعود نے کہا کہ ’اسرائیل میں میرے پیارے دوستوں، آپ کا ایک صحافی اسلام کے مقدس شہر میں داخل ہوا اور وہاں اس نے بے شرمی سے فلمبندی کی۔ چینل 13 نے اسلام کی توہین کی۔ یہ بدتمیزی ہے۔‘

سعودی ذرائع ابلاغ، جس کی حکومت سختی سے نگرانی کرتی ہے، نے اس بارے میں رپورٹنگ نہیں کی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے حکام کا مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا۔

گل تماری جمعے کو امریکی صدر جو بائیڈن کے سعودی عرب دورے کی کوریج کے لیے جدہ میں موجود تھے۔ یہ غیر واضح ہے کہ آیا سعودی حکام نے انھیں مکہ جانے کی اجازت دی تھی یا وہ چھپ کر مقدس مقامات میں داخل ہوئے۔انھوں نے بعد میں اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کا ارادہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔تماری نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اگر کسی کو اس ویڈیو سے دُکھ پہنچا ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔‘’اس سفر کا مقصد مکہ اور اس مذہب کی خوبصورتی دکھانا تھا تاکہ مذہبی رواداری اور شمولیت کو فروغ دیا جاسکے۔‘(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)