تل ابیب: اسرائیل میں سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کر دی جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں دیہی علاقے سے ایک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم کا مقصد اسرائیلی فوج کے لیے اس علاقے کو خالی کرانا ہے جہاں فوجی تربیتی مشقیں انجام دی جاتی ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 20 برس تک غیر فیصلہ کن قانونی جنگ کے بعد اسرائیلی سپریم کورٹ نے بدھ کو رات گئے اپنا فیصلہ جاری کیا۔

اس طرح الخلیل شہر کے نزدیک چٹانوں والے علاقے میں 8 دیہات کو منہدم کرنے کی راہ ہموار کر دی گئی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ "عدالت کہ سامنے یہ بات آئی ہے کہ اسرائیلی فوج نے 1980ء کی دہائی میں جب مذکورہ علاقے کو فوجی تربیت کا علاقہ ہونے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت فلسطینی آبادی یہاں مستقل صورت میں مقیم نہیں تھے”۔فلسطینی آبادی اور انسانی حقوق کی اسرائیلی جماعتوں کا کہنا ہے کہ 1967ء میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے سے قبل متعدد فلسطینی خاندان 7400 ایکڑ رقبے پر مستقل صورت میں مقیم تھے۔

لہذا ان فلسطینیوں کی بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔فلسطینیوں کے ہاں یورپی اتحاد کے وفد کا کہنا ہے کہ یہ بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ وفد نے ٹویٹر پر کہا کہ قابض طاقت ہونے کی حیثیت سے اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرے اور انہیں جبری ہجرت پر مجبور نہ کرے۔اسرائیلی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ دیہی علاقے کے فلسطینیوں کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے ساتھ اس بات کا معاہدہ کر لیں کہ مذکورہ اراضی کے کچھ حصوں کو زرعی مقصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔ عدالت نے فریقین پر زور دیا کہ اس معاملے کا تصفیہ کریں۔اسرائیل میں شہریوں کے حقوق کی انجمن کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے "غیر معمولی” نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ انجمن علاقے کی فلسطینی آبادی کی بے دخلی کے ٰخلاف درخواست میں شریک تھی۔