لکھنؤ:08جولائی(یواین آئی) اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں نے اپنی تیاریاں شرو ع کردی ہیں۔اسی ضمن میں مشن یوپی کے تحت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی یک روزہ طور پر یوپی پہنچے۔ اس دوران انہوں نے’ حصہ داری’ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسمبلی میں آواز بلند کر کے آگے بڑھنے کا دعوی کیا۔

حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی بہار کے بعد یوپی میں اپنی پارٹی کو وسعت دینے کےلئے ان دنوں کافی سرگرم ہیں۔ مسٹر اویسی نے سابق کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی قیادت میں بننے والے بھاگیداری سنکلپ مورچہ میں اپنی شمولیت کو یقینی بنایا ہے اور پارٹی کے ریاستی صدر و کارکنوں اب 100سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کررہے ہیں۔

یک روزہ طورے پر لکھنؤ کے اموسی ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد اسد الدین اویسی نے ایک ہوٹل میں سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر سے ملاقات کی۔دونوں لیڈروں کے درمیان 40منٹ کی ہوئی میٹنگ میں سنکلپ مورچہ کی کامیابی، اس کے لئے امکانی اقدامات، کن پارٹیوں سے اتحاد کے امکانات ہیں وغیرہ موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات کے بعد مسٹر پرکاش نے جہاں بی جے پی کو اپنا ہدف تنقید بنایا اور کابینی توسیع کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اسے ٹرین کا ڈبہ تبدیل کرنے جیسا گردانہ وہیں اسد الدین اویسی نے مسلم سماج کے تعلیمی پسماندگی کے لئے کانگریس و بی جے پی دونوں کو موردالزام ٹھہرایا۔اس سے قبل لکھنؤ پہنچنے کے بعد اسد الدین اویسی نے راجدھانی سے 130کلو میٹر دور ضلع بہرائچ پہنچ کر سید سالار مسعود غازی کے دربار میں حاضری دی اور پھر بہرائچ میں ہی ایم آئی ایم کے دفتر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وہاں موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب صرف کھجور اور افطار پارٹی سے کام نہیں چلے گا۔مسلم ۔یادو کا ملاپ کام نہیں کرے گا۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یوگی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔