قرآن وحدیث کی تعلیمات ایسی ہیں کہ Terminology نہ بھی آتی ہو مگر عورت کو وہ سب کچھ ملتا ہے جو اس کو چاہٸے ہوتا ہے،میاں بیوی دونوں شریعت والی زندگی کواپنا لیں، terminology کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں،خود بخود خاوند بیوی کو وہ دیگاجسکی اس کو ضرورت ہے،بیوی خاوند کو وہ دیگی جسکی اسکو ضرورت ہے۔آج شادیاں کرتے ہیں خوبصورتی کے پیچھے،تو خوبصورتی تو کسی کو کچھ نہیں دے سکتی،یاد رکھیں!شادی کے پہلے دن عورت کی شکل دیکھی جاتی ہے،پھر اس کے بعد پوری زندگی عورت کی عقل دیکھی جاتی ہے۔اور نبی علیہ السلام کی ایک حدیث مبارک سے بھی یہی ثابت ہوتا ہےکہ مال کی خاطر شادی کرنا،خاندان کی خاطر شادی کرنا،حسن کی خاطر شادی کرنا،یہ سب بعد کی باتیں ہیں،اصل چیز تو نیکی اور دینداری ہے،اس کی بنیاد پر شادی کرنی چاہٸے۔آج ہم نبی علیہ السلام کی سنتوں کو چھوڑتے ہیں اور مصیبتوں میں پڑجاتے ہیں،اگر کوٸی اللہ کا بندہ ہوگااور اس کے دل میں خوف خدا ہوگاتو وہ بیوی کو کیوں رلاٸیگا؟وہ بیوی کو پریشان کیوں کرےگا؟اور جس کا محبت کرنے والا خاوند ہواسکا رنگ گورا ہے،کالاہے،وہ غریب ہے یا امیر ہے،وہ چھوٹے خاندان کا ہے یا بڑے خاندان کا ہے،اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
نبی علیہ السلام کے ایک صحابی تھے،جن کانام تھا سعدؓ،ان کی شادی نہیں ہوٸی تھی،ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے ان سے پوچھ لیا کہ شادی کیوں نہیں کرتے؟انہوں نے کہاں کہ میری شادی اس لٸے نہیں ہوتی کہ میرارنگ کالا ہے،اور میں غریب ہوں،نبی علیہ السلام نے پوچھا کوٸی رشتہ دار ہے؟انہوں نے کہا کہ میری cousin (چچازاد)ہے، جو بہت خوبصورت ہے،امیر گھرانے کی ہے،مگر وہ لوگ مجھے رشتہ نہیں دیتے،تو نبی علیہ السلام نے کہا جاٶاس کے والد کو بتاٶکہ میں نے تمہارے ساتھ اس کا نکاح کردیا۔کسی شاعر نے اس واقعہ کو اشعار میں کیا،آپ ذرا یہ اشعار بھی سن لیجٸے کہ اس وقت کی عورتیں کس طرح دین کی خاطر اپناسب کچھ قربان کرنے کے لٸے آمادہ ہوجاتی تھیں!!
ایک بندہ سعد نامی آپ کا اصحاب تھا
رنگ کالا اسکا تھا اور نقد میں نایاب تھا
ایک دن دریاٸے رحمت آگیا یوں جوش میں
سعد کو بیٹھے بٹھاٸےلے لیا آغوش میں
سعد تو نے اپنی شادی آج تک کی نہیں
سعد بولا رشتہ کوٸی کالے کو دیتا نہیں
ایک لڑکی خود میرے چچا کے یہاں موجود ہے
میں توکوشش کرچکا لیکن وہاں بے سود ہے
جب بھی جاتاہوں وہاں لیکر میں خود اپنا پیام
دھکے ملتے ہیں مجھے سنتا ہوں باتیں بے لگام
بدشکل بدرنگ ہونا اس میں میرا چارہ کیا
میں نے ہے وہ رنگ پایا جومجھے رب نے دیا
الے گورے کا خیال آتے ہی جذبہ آگیا
جوش میں آکر اسی دم آپ نے فرمادیا
سعد میں نے آج تیرا عقد اس سے کردیا
اپنے چچاجی کو جاکر یہ خبر جلدی سنا
سعد نے سن کر نبی کی گفتگو پرواز کی
اپنے چچا جان کے دروازے پر آواز دی
سن کے یہ آواز وہ جلدی سے باہر آگٸے
سعد کی اس بات سے دل میں بہت گھبراگٸے
بولے تو ہے رنگ کا کالا اور ہے مفلس غریب
میں تجھے لڑکی دوں اپنی یہ کہاں تیرا نصیب
سعد کے چچا عمروبن وہب بولے بے حجاب
بھاگ جا درسے میرے ورنہ کرونگا میں خراب
سعد بولے اپنی مرضی سے تو میں آیا نہیں
مصطفی نے بھیجا تھااور اب بھی جاتاہوں وہیں
سعد تو یوں درسے واپس آگٸے سوٸے جناب
اورگٸے اندر چچا کھاتے ہوٸے کچھ پیچ وتاب
لڑکی ان کی سن چکی تھی سعد کے سارے جواب
بولی ابال خیر تو ہے کیوں تھا غصے کا خطاب
باپ بولا سعد حبشی میرے در پر آیا تھا
اور تجھ سے شادی کا پیغام مجھ تک لایا تھا
رنگ کا ہے کالا وہ اور مفلس ومحتاج بھی
میری عزت اور دولت کی نہ رکھی لاج بھی
چاند سی بیٹی اسے دے دوں یہ تو ممکن نہیں
وہ تو کوڑھی داغ داماد ہوسکتا نہیں
لڑکی بولی خود پیام عقد لے کے آیاتھا
یاکسی نے بھیجا تھا اور بن کے قاصد آیاتھا
باپ بولا خود سے میں آیا نہیں کہتا تھا وہ
سرور کونین نے بھیجا ہے مجھ کو بیٹی دو
سن کے بس اس بات کو لڑکی تو وہ چلا اٹھی
کیا غضب کی بات ابال تم نے آج اس سے کہی
کب میں کہتی ہوں کہ اس کے رنگ کالے کو تو دیکھ
میں تو کہتی ہوں کہ اس کے بھیجنے والے کو دیکھ
میں نے مانا کالا ہے وہ حسن میں بھی ماند ہے
بھیجنے والا تو لیکن چودہویں کا چاند ہے
تیری بیٹی اس کے کالے رنگ پر مسرور ہے
کالی کملی والے کی مرضی اسے منضور ہے
اگر ایسی بیویاں ہوں جو کالی کملی والے کی مرضی کو دیکھ کر زندگی گزارنے والی ہوں تو سوچٸے کہ گھر جنت کے نمونے بن جاٸینگے۔اللہ رب العزت ہمیں نیکوکاری پرہیزگاری کی زندگی نصیب فرماٸے۔
(مستفاداز حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم)