کانگریس کے ترجمان سچن ساونت کا وزیرداخلہ سے مطالبہ

ممبئی: ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور بارک کے سابق سربراہ پارتھوداس گپتا کے درمیان ہونے والے واٹس ایپ چیٹ سے کئی سنگین اورملک کی سالمیت کے لیے خطرناک باتیں سامنے آئی ہیں۔ خاص طور سے پلوامہ میں سی آرپی ایف کے جوانوں پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کے بالاکوٹ میں ہندوستان نے جو فضائی حملہ کیا تھا اس کی معلومات ارنب گوسوامی کو حملے سے تین دن قبل ہی تھی۔ گوسوامی اور پارتھوداس گپتا کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت نیوز چینلوں وسوشل میڈیا میں بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر انتہائی حساس اور خفیہ معلومات گوسوامی تک کیسے پہونچی؟ یہ واضح طور پر ملک سے غداری کا معاملہ ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ گوسوامی کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ ریاستی وزیر داخلہ سے یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔ انہوں نے وزیرداخلہ سے اس سلسلے میں کانگریس پارٹی کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی جس میں ریاستی ترجمان ڈاکٹر راجو واگھمارے، گجانن دیسائی اور ونئے کھامکر موجود تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر انتہائی حساس اور خفیہ معلومات گوسوامی تک کیسے پہونچی؟ یہ واضح طور پر ملک سے غداری کا معاملہ ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ گوسوامی کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ ریاستی وزیر داخلہ سے یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔ انہوں نے وزیرداخلہ سے اس سلسلے میں کانگریس پارٹی کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی جس میں ریاستی ترجمان ڈاکٹر راجو واگھمارے، گجانن دیسائی اور ونئے کھامکر موجود تھے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق معلومات لوگوں تک پہونچنا انتہائی سنگین ہوتا ہے جبکہ ارنب گوسوامی تک تو فوجی کارروائی کی معلومات تین دن قبل ہی یعنی کہ 23فروری2019کو ہی پہونچ چکی تھی۔ کیا اس نے یہ معلومات کسی اور کو بھی دی تھی؟ کیونکہ اس نے یہ بات بھی کہی ہے کہ اسے یہ معلومات دینے والا مودی حکومت میں ایک بڑا شخص ہے۔ اس پورے معاملے کی تفتیش ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ارنب گوسوامی کا یہ عمل آفیشیل سکریٹ ایکٹ 1923کی دفعہ 5کے تحت دفتری خفیہ معلومات کو افشاء کرنے والا ہے۔ اس لیے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس قانون کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار ریاستی حکومت کو ہے۔ اس لیے مہاراشٹر حکومت ارنب گوسوامی کو فوری طور پر گرفتار کرے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نریندرمودی حکومت کے دور میں قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

ساونت نے مزید کہا کہ ارنب گوسوامی اور اس کے ری پبلک ٹی وی نے کئی غیرقانونی کام کیے ہیں۔ دوردشن کے سیٹیلائیٹ فریکونسی کا غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پرسار بھارتی کے کروڑوں روپیے کا نقصان کیا ہے۔ری پبلک ٹی وی نے دوردرشن کو پیسے نہ دیتے ہوئے اس کی فریکونسی کا استعمال کرنا جرم ہے۔ ٹی آر پی گھوٹالے میں الجھی ہوئے اس چینل نے سرکاری ملکیت کے دوردرشن کی فریکونسی کا استعمال کرتے ہوئے ٹی آر پی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ٹی آر پی گھوٹالے کی تفتیش کرتے ہوئے ان جرائم کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔ دوردرشن نے اطلاعات ونشریات کے وزیر راج وردھن راٹھوڑ کے پاس اس ضمن میں شکایت بھی کی تھی لیکن وزیرموصوف نے ان شکایات کو کوڑے دان میں ڈال دیا تھا۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مودی حکومت کی ارنب گوسوامی کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس معاملے میں عوامی پیسے کے لوٹ اجاگر ہوتی ہے اس لیے ای او ڈبلیو سے اس کی تفتیش کرائی جائے۔ وزیرداخلہ نے اس وفد کو یقین دلایا ہے کہ افسران سے صلاح ومشورہ نیز قانونی مشاورت کے بعد وہ اس معاملے ضرور کارروائی کریں گے۔

اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مودی حکومت کی ارنب گوسوامی کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس معاملے میں عوامی پیسے کے لوٹ اجاگر ہوتی ہے اس لیے ای او ڈبلیو سے اس کی تفتیش کرائی جائے۔ وزیرداخلہ نے اس وفد کو یقین دلایا ہے کہ افسران سے صلاح ومشورہ نیز قانونی مشاورت کے بعد وہ اس معاملے ضرور کارروائی کریں گے۔