اردھا پور میں دم توڑتا کرکٹ
کھلاڑیوں میں شدید ناراضگی

ایک وقت تھا جب اردھا پورشہر کے کھلاڑی پورے ناندیڑ ضلع میں مشہور تھے ۔ اور یہاں کے شائقین کو بھی کرکٹ سے کافی دلچسپی تھی۔ ناندیڑ ضلع کے آس پاس جتنے بھی ٹورنامنٹ ہوتے تھے اکثر فائنل میں فتح یاب ہونے والی ٹیم اردھا پورکی ہی ہوتی تھی اور کرکٹ کے کھیل میں اپنا مقام بنائے ہوئے تھی۔ شہر کے تالاب میں ہر سال تین یا چار ٹورنامنٹ ہوتے تھے بچے نوجوان بوڑھے سبھی کھیل کا مزہ لیتے تھے ۔ تالاب میدان کافی بڑا تھا جس میں آرام سے تین ٹیموں کے کھلاڑی پرکٹیس کرتے تھے جب ٹورنامنٹ ہوتے تھے تو آس پاس کے قریبی دیہات کے لوگ بھی کثیر تعداد میں شہر میں آتے تھے۔ ویسے تو شہر میں الگ الگ ٹیمیں تھی مگر خاص طور پر درگا کرکٹ کلب ،ینگ بوائز ا، کرکٹ کلب ، آغا پورہ کرکٹ کلب ،نئی آبادی کرکٹ کلب ،سہارا کرکٹ کلب کافی مشہور تھے۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ضلع کے آس پاس کرکٹ ٹورنامنٹ ہوں اور اردھا پور کے کھلاڑیوں نے اس میں حصہ نہ لیا ہو ان سبھی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے کافی دور جا کر اپنے کھیل کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں اپنا نام نقش کیا جس میں زبیرقاضی، عبد الحق عرف باقی بھائی ، اعجاز باغبان ،تصور پٹھان،شاہد پٹیل ،امبا داس امبے گاﺅں کر، ماجد قریشی ،شیخ جابر، جمعہ خان، شیخ افروز ، عرفان علی حسینی ،پپو سوداگر ،چتھر پتی کانوڑے، سداشیو دیشمکھ شیخ جابر، رضی الدین قاضی، سید عمران علی، سندیپ کامیڑے،شیخ صابر ،شمیم بھائی، شیخ عبدالحفیظ ،حیدر جمال وغیرہ اور اس کے علاوہ بھی بہت سے کھلاڑی کافی مشہور تھے ۔ اردھاپور کے مشہور کمنٹیٹر مرزا ابرار بیگ کو سننے کے لیے لوگ دور دور سے موٹر سائیکل اور سائیکل پر آتے تھے
یہ وہ کھلاڑی تھے جنہیں کرکٹ کھیلنے کے لیے باہر سے بھی آفر آتے تھے۔ ان کو دیکھنے کے لیے کرکٹ شائقین ہمیشہ بے صبر رہتے تھے۔ ان کھلاڑیوں سے کئی ایک نوجوانوں نے کرکٹ کھیلنا سیکھا ۔تالاب میدان پر ضلع بھر سے اچھے اچھے کھلاڑیوں نے اپنے کھیل کا مظاہرہ کیا اور لوگوں، شائقین کو خوش کیا ۔ابھی حال ہی میں شہر کے ایک کھلاڑی محمد ریاض نے بھوکر ٹورنامنٹ میں ایک نیا ریکارڈ بنا ڈالا. نوجوان کھلاڑی محمد ریاض نے صرف 36 گیندوں میں 108 رن بنا ڈالے یہ خبر سبھی اردو نیوز پیپر میں شائع ہوئی اتنا بڑا اسکور بنانا کوئی معمولی بات نہیں جس میں انہوں نے 14چکھے لگائے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی بھی اردھا پور میں اچھے کرکٹ کی کمی نہیں۔اگر ایسے کھلاڑیوں کو وقت پر ہی رہنمائی ملے تو یہ اپنے شہر اپنے ضلع کا نام روشن کر سکتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پچھلے دو تین سال میں ایک بھی ٹورنامنٹ نہیں ہوا جبکہ ناندیڑ ضلع کے اطراف ہر تعلقہ میں کرکٹ ٹورنامنٹ رکھے گئے اس میں اردھا پور کے کھلاڑی باہر جا کرتو کھیل رہے ہے مگر جونام اردھا پور کے کا میدان کا تھا وہ آہستہ آہستہ اپنا دم توڑ رہا ہے۔
اگر یہ حال رہا تو اردھا پور کے نوجوان اپنے دور میں کرکٹ سے وہ نام نہ کما سکیں گے جو پہلے کھلاڑیوں نے کمایا تھا اس کھیل کی وجہ سے اردھا پور کا نام کافی دور تک مشہور تھا کرکٹ کے ٹورنامنٹ نہ ہونا آنے والے
کھلاڑیوں کو کرکٹ سے ومحروم رکھنے کے برابر ہے ۔ آج بھی اردھا پور میں اچھے کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے. و ہ نام وہ رتبہ قائم رہ سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ شہر میں کرکٹ ٹورنامنٹ لیے جائیں اور نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے جو اپنا شہر کا نام کرکٹ کی دنیا میں اونچا رکھے۔
کرکٹ ٹورنامنٹ نہ ہونے کی وجہ کچھ خاص نہیں ہے اس کو دور کیا جا سکتا ہے سب سے پہلے جو کمیٹی ہے اس کی اپنی کوئی ٹیم نہیں ہونی چاہیے ۔ جو کمیٹی ہوتی ہے وہ اپنی ٹیم کو کامیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی ہے جس میں سے ایک یا دو صحیح کھیل کر اپنی ٹیم کو فائنل میں چلی جائے ۔ یہ بات دوسری ٹیموں کو ناگوار گزرتی ہے۔ کیمٹی کی ٹیم کو جتانے کے لیے امپائر غلط فیصلہ دیتے ہے جس کی وجہہ سے بات جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ اور ان معمولی وجوہات کی بنا پر کھیل ختم ہو جاتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مستقبل میں اپنے شہر کا نام کھیل کی دنیا میں زندہ رکھنا ہے تو کھیل کو کھیل کی طرح کھیلنا ہوگا ویسے بھی اچھے کھیل کو سمجھنے والوں کی اردھاپور میں کمی نہیں ہے۔ تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کھیل کو قائم رکھے صحت کا راز کھیل میں ہی چھپا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بیماریوں سے اس کھیل کے وجہ سے چھٹکارا ملتا ہے. تندرستی ہزار نعمت ہے ہم اسے برباد نہیں کرسکتے ۔ صحت مند شہر رکھنے کے لیے زندگی میں کھیل کا ہونا ضروری ہے آخر میں امید کرتے ہیں کہ پھر سے کرکٹ زندہ ہو اچھے ٹورنامنٹ لیے جائیں لوگوں کا منورجن ہو اور شہر کا نام پھر سے مشہور ہو۔اب وہ وقت نہیں رہا. ایسا لگتا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد اردھاپور سے کرکٹ کا یہ روایتی کھیل ختم ہو جائیگا اگر ایسا ہوا تو آنے والے نئے کھلاڑی اپنا مقام نہ بنا سکے گے اور کھیل کہ میدان میں جو نام تھا وہ باقی نہ رہے گا ۔ اس لیے ابھی بھی وقت ہے جو کرکٹ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں وہ سامنے آئیں اور شہر سے ہر سماج کے ذمہ دار وں سے مل کر ایک کیمٹی کی تشکیل دے اور پھر سے وہی ماحول تیار کرے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھرہا ہے کہ پورے ضلع کے اطراف کرکٹ ٹورنمنٹ شروع ہے وہیں اردھاپور کے کھلاڑی اس سے محروم ہے۔

شیخ زبیر اردھاپور ضلع ناندیڈ
Cell no 9823497276