اردھاپور‘ لمبھ گاؤں ‘چورنبا دیہاتوں میں شیر کی دہشت

0 86

ناندیڑ:15 نومبر(ورقِ تازہ نیوز)خشک سالی کے باعث جنگل کے جانور اب شہر کی بستیوں کارُخ کررہے ہیں کیونکہ جنگلوں میں موجود مختلف ذخیرہ آب اب ختم ہورہا ہے ۔ حالیہ دنوں چورنبا ‘ لمب گاوں اور اردھاپور علاقوں میں شیر نے دہشت مچادی ہے ۔شیر نے کچھ مویشیوں کو اپنا شکار بھی بنایا ہے ۔ جس کی وجہہ سے علاقہ کے ساکنان میں کافی خوف ودہشت کاماحول ہے ۔

پانی کی پیا س اور بھوک سے بے حال شیر اب کسانوں کے مویشیوں کواپنا شکار بنا رہے ہیں ۔ چورنبا و لمب گاوں دیہاتوں میںدو ماہ سے شیر کی دہشت ہے ۔ گزشتہ ماہ سوناڑ اد یہات میں لمباجی پانڈورنگ کی بکریوں پر حملہ کرکے ایک ہی شب بارہ بکریوں کو شیر نے اپنا نشانہ بنایاتھا ۔اسکے کچھ دنوں بعد ہی چورنبا دیہات میں کسان چکردھر کھانسوڑے کے اکھاڑے پر بندھی بھینس کو نشانہ بناکر ہلاک کردیاگیاتھا ۔جس کی وجہہ سے دیہات میں شیر کی موجودگی کی بحث چل رہی ہے ۔ سارے علاقے میں شیر کی دہشت کاماحول ہے ۔آج 15 نومبر کوصبح کے وقت اردھاپور تعلقہ کے موضع لہان میں پنجارام گاجیوار کے گوٹھے میں بندھے کچھ مویشیوں میں سے تین سالہ بچھڑے کو شیر نے پھاڑ دیا ۔ا س ماہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے ۔

اس واردات کے بعد لہان دیہات میں خوف ودہشت کاماحول ہے ۔فی الحال ربیع سیزن ہے اسلئے کسانوں کورات کے اوقات میں کھیت میںفصلوںکوپانی دینے کےلئے جاناپڑتا ہے ۔ جس کی وجہہ سے دیہاتیوں میں خوف کاماحول ہے ۔ مناٹھا ‘ چورنبا ‘ لمب گاو¿ں ‘چابھرا ‘ساور گاو¿ں کے 2ہزار500 ہیکٹر میں جنگل پھیلاہوا ہے ۔ جہاں پر مختلف جنگلی جانور پائے جاتے ہیں جن میں چیتا ‘ لومڑی وغیرہ شامل ہیں ۔ لیکن حالیہ دنوں کسانوں کے مویشی موت کے گھاٹ اترنے کے بعد علاقہ کے ساکنان کا کہنا ہے کہ اب یہاں شیر بھی موجود ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوںنے کئی مرتبہ چیتااور جسم پر پٹے والا شیر بھی دیکھا ہے ۔ اس ضمن میں محکمہ جنگلات کو فوری سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔