ممبئی:16۔جنوری۔ (ورق تازہ نیوز) اردو کے معروف شاعر نقاد صحافی اور نغمہ نگار ابراہیم اشک کا آج 16جنوری کو شام چار بجے میرا روڈ (ممبئی) کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ مرحوم کو ویڈ 19 مرض سے متاثر تھے۔

بالی ووڈ کی مشہور فلم ”کہونہ پیارہے “ کے مشہور نغمے بھی ابراہیم اشک نے لکھے تھے۔ اسکے علاوہ انھوں نے دیگر فلموں میں بھی نغمے لکھے تھے.

روزنامہ ورق تازہ کے مدیراعلیٰ محمد تقی نے اپنے تعزیتی پیام میں کہاکہ ابراہیم اشک سے انکے دیرینہ مراسم تھے۔اللہ رب العزت موصوف کو غریق رحمت کرے اور جملہ متعلقین کو صبر دے ۔آمین

واضح ہوکی مرحوم "کہو نا پیار ہے” اور "کوئی… مل گیا” جیسی فلموں کے گانے لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں.

انکی بیٹی مصفا نے بتایا کہ ابراہیم اشک کو سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد ہفتہ کو شہر کے میڈیک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انکی بیٹی نے مزید کہا کہ والد صاحب کو COVID-19 نمونیا کی تشخیص ہوئی، جس سے ان کے پھیپھڑے متاثر ہوگئے تھے۔

"ابراہیم اشک کو ہفتہ کے روز ہسپتال میں داخل کرایا گیا جب وہ بہت زیادہ بیمار تھے۔ وہاں انہیں COVID کی تشخیص ہوئی۔ انہیں COVID نمونیا تھا جس کے بارے میں ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ ان کے پھیپھڑے متاثر ہوئے اور انہیں سانس لینے میں کافی دشواری ہورہی تھی۔ آج شام 4 بجے کے قریب ان کا انتقال ہو گیا،” ان کی تدفین پیر کی صبح کی جائے گی”۔ مُصفا

مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے اشک نے 1974 میں اندور یونیورسٹی سے ہندی ادب میں پوسٹ گریجویشن کیا۔ اردو کے شاعر بھی تھے، بعد میں انہوں نے بطور صحافی کام کیا۔

بطور نغمہ نگار بالی ووڈ میں ان کے مقبول کام میں "کہو نا پیار ہے”، "نا تم جانو نا ہم”، "کوئی مل گیا”، "ادھر چلا میں ادھار چلا” اور "آپ مجھے اچھے لگنے لگے” جیسے ہٹ گانے شامل ہیں۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور تین بیٹیاں ہیں۔