نئی دہلی، 9 جنوری(یو این آئی)اردو کے معروف صحافی، ادیب، نقاداور مترجم مظفرحسین سید کا گزشتہ رات مارہرہ شریف میں انتقال ہوگیا۔ان کی عمر72 سال تھی۔وہ کافی دنوں سے علیل تھے۔ ان کی اہلیہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا اور وہ لاولد تھے۔یہ جانکاری یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔شارق ادیب کے قلمی نام سے مشہور مظفرحسین سید کی پیدائش مرادآباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مارہرہ شریف میں حاصل کی جہاں ان کے والد سید اخترحسین زیدی ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر تھے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کرنے کے بعدمظفر حسین سید نے صحافت کو مشغلہ بنایا۔مسلم یونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی کے دو بار سیکریٹری رہے۔

معرو ف استاد پدم شری پروفیسر قاضی عبدالستار کی سرپرستی میں نئے افسانہ نگاروں کی انجمن تشکیل دی اور کل ہند سیمینار کا انعقاد کیا جس میں ملک بھر کے معروف افسانہ نگاروں نے شرکت کی تھی۔ دورانِ طالب علمی میں ہی متعدد افسانے ملک کے موقر جرائد میں شائع ہوئے اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی نشر ہوئے۔علی گڑھ سے ہفتہ وار اخبار’ہم نوا‘ اور ’علی گڑھ ٹائمس‘ شائع کئے۔

صحافت سے غیرمعمولی دلچسپی انھیں دہلی لے آئی اور یہاں انھوں نے اس وقت کے معروف اخبارات’الجمعیۃ‘،’دعوت‘،’قومی آواز‘اور’اخبارنو‘ میں خدمات انجام دیں۔بعد کومعروف وکیل اور سیاست داں ڈی ڈی ٹھاکر کے ساتھ مل کر پندروروزہ ’حال ہند‘ شائع کیا۔ان کے بیشتر مضامین ماہنامہ’آج کل‘ اور ہفتہ وار’ہماری زبان‘ میں شائع ہوئے۔آخر میں اپنا اشاعتی ادارہ ’سید ایسوسی ایٹ‘ قائم کیا اور کئی سو کتابیں شائع کیں۔

دہلی میں ٹرانلیشن بیورو کی داغ بیل بھی ڈالی۔ آخر میں صحت خراب رہنے لگی توعلی گڑھ،مراد آباد اور مارہرہ آتے جاتے رہے لیکن انھوں نے آخری سانس مارہرہ میں لی۔آج بعد نماز ظہر سرکردہ افراد کی موجودگی میں مظفر حسین سید کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کے انتقال پر سابق ممبرپارلیمنٹ م۔ افضل، پروفیسر اخترالواسع، سید محمداشرف، معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر راحت ابرار، صحافی محمداحمدشیون، ایڈووکیٹ زیڈ کے فیضان،شاہدپرویز اور سہیل انجم نے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں